Al-Risala · February 1989 · page 15

یقینی حل

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۵

ہنگامہ برپا ہوگیا ۔ اس فساد میں مسلمانوں کو جان و مال کا جو نقصان اٹھانا پڑا اس کی تفصیل قومی آواز کی رپورٹ ۲۷ اکتوبر ۱۹۸۸ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

ہندو فرقہ پرستوں کے ان "کاغذی" بیڑوں کو مسلمان اگر اپنی دکانوں کے اوپر سے خود نہ اُتارتے تو یقینی طور پر اس کے جھونجے انھیں اتار دیتے ۔ قدرت کا نظام زیادہ بہتر طور پر وہ کام کر دیتا جس کو مسلمان نہایت کم تر انداز میں انجام دینا چاہتے تھے ۔ مگر مسلمان اپنی بے شعوری اور نظام خداوندی کے بارہ میں اپنی بے یقینی کی بنا پر اس کا انتظار نہ کر سکے کہ قدرت کی طاقتیں متحرک ہو کر جھنڈوں اور بیڑوں کے اس کوڑے کو صاف کریں۔ انھوں نے مشتعل ہو کر خود یہ کام کرنا چاہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ انتہائی غیر ضروری طور پر آگ اور خون کی نذر کر دیے گئے ۔

ہندوستان کے فسادات کے سلسلہ میں اصل مسئلہ مسلمانوں کی یہی مشتعل مزاجی ہے نہ کہ اغیار کی اشتعال انگیزی۔ کیوں کہ مقابلہ کی اس دنیا میں اشتعال انگیزی کے واقعات تو بہر حال ہوں گے، اوروہ ہندوستان ہی میں نہیں، بلکہ ہر جگہ ہوں گے، حتیٰ کہ مسلم ملکوں میں بھی۔ ہم ان کے وجود کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اپنے آپ کو ان کے نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ اور وہ تدبیر ہے ۔ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا۔

مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کی یہی بے صبری ہے۔ فریق ثانی نے اچھی طرح جان لیا ہے کہ کچھ چیزیں ہیں جن پر مسلمان فوراً بھڑک اُٹھتے ہیں۔ ہر مسلمان کا کوئی "ہری گڑھ" ہے ۔ جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ہو ، فوراً "ہری گڑھ" کا نعرہ لگا دو ۔ اس کے بعد لازماً ایسا ہوگا کہ مسلمان بھڑک اُٹھیں گے اور پھر ان کے خلاف متشددانہ کارروائی کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمان "ہری گڑھ" پر بھڑکنا چھوڑ دیں ، اس کے بعد تمام فسادات بے زمین ہو کر اپنے آپ ختم ہو جائیں گے ۔

یقینی حل

ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کا بلا شبہ یقینی حل ہے ۔ مگر یہ حل " انتظامیہ" کے پاس نہیں ہے۔ یہ خود مسلمانوں کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ مسلمان جس روز اس حقیقت کو جان لیں گے، اسی دن اس ملک سے فرقہ وارانہ فسادات اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page