صدر اسلامی مرکز
الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۳۲
دو دومان درگھٹاؤں میں 164 مرے : ٹائمس آف انڈیا (۲۰ اکتوبر) کی پہلی آٹھ کالی سرخی یہ تھی : 164 killed as IA, Vayudoot planes crash یہ ہندوستان کی شہری ہوابازی کی تاریخ میں دوسرا سب سے زیادہ ہولناک حادثہ تھا۔ پہلا شدید حادثہ وہ تھا جو ۲۳ جون ۱۹۸۵ کو پیش آیا۔ ایئر انڈیا کا ایک جہاز (کنشک) ایک بم کے پھٹنے سے تباہ ہوگیا تھا اور بحر الکاہل میں گر پڑا تھا۔ موجودہ حادثہ دو الگ الگ جہازوں کا تھا مگر وہ ایک ہی دن ہوا۔ ایک احمد آباد میں اور دوسرا گوہاٹی میں۔ دونوں موسم کی خرابی کی بنا پر ہوئے۔ احمد آباد میں تباہ ہونے والا جہاز جب ہوائی اڈے کے اوپر پہنچا تو وہاں فضا میں سخت کہر کی وجہ سے اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ پائلٹ سطح زمین پر دیکھ نہ سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ (۲۰ اکتوبر ) کے مطابق جہاز ہوائی اڈہ کے اندر اترنے والی سڑک پر اترنے کے بجائے باہر ایک کھیت میں اتر گیا اور وہاں درختوں سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا :
Instead of landing at the airstrip, it crashed into a field in the outskirts of the city. اسی طرح چند دن پہلے اخبار کے صفحہ اول پر ایک تصویر تھی جس میں ایک ٹوٹا ہوا جہاز آگ کے شعلوں کی نذر ہورہا تھا۔ یہ یوگنڈا کی کمپنی (Ugandan Airlines) کی فلائٹ نمبر775 تھی۔ یہ بوئنگ جہاز لندن سے براستہ روم یوگنڈا جا رہا تھا۔ اس پر عملہ سمیت ۵۲ مسافر سوار تھے۔ ۱۷ اکتوبر ۱۹۸۸ کی شام کو اسے کچھ دیر کے لئے روم کے ہوائی اڈہ پر اترنا تھا۔ اس وقت یہاں شدید کہر چھایا ہوا تھا۔ جہاز کا پائلٹ رن وے کو صاف طور پر دیکھ نہ سکا۔ چنانچہ جہاز ایک پختہ عمارت (Hangar) سے ٹکرا گیا۔ ٹکراتے ہی جہاز آگ کا ایک گولابن گیا۔ بیشتر لوگ اسی وقت ہلاک ہوگئے۔ تقریباً ۲۰ آدمی اُس حالت میں اسپتال میں پہنچائے گئے کہ ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ اور بدن آگ کے اثر سے جھلسا ہوا تھا۔
زندگی حادثات سے اتنی زیادہ بھری ہوئی ہے کہ آدمی اگر حادثات کو یاد رکھے تو اس کے اعصاب پھٹ جائیں اور پھر وہ کوئی سفر یا دوسرا کوئی اقدامی کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت ذہن کی وہ صفت ہے جس کو قدیم زمانے میں فراموشی کہا جاتا تھا ، اور موجودہ زمانہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues