Al-Risala · February 1989 · page 35

صدر اسلامی مرکز

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۳۵

انھوں نے کہا کہ انڈ نے پاکستان (کراچی، لاہور) کے لئے جو ہوائی سروس جاری کی ہے، وہ ایئر انڈیا بین الاقوامی ہوائی ادارہ کے تحت نہیں ہے، بلکہ انڈین ایئر لائنز (ملکی ہوائی ادارہ) کے تحت اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا نے ابھی تک ہم کو ایک مستقل ملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا، وہ ہم کو اپنی وسیع تر سلطنت کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔

دوسری طرف انڈیا کا حال یہ ہے کہ میں ۱۵ اگست، ۱۹۸۸ کو نئی دہلی کے ایک اجتماع میں شریک ہوا۔ اس میں پاکستان کے قائم مقام سفیر کو چیف گیسٹ کی حیثیت سے بلایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان نا جنگ معاہدہ (No-war pact) کی انتہائی شدید ضرورت ہے تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کی طرف سے بے فکر ہوکر اپنے ترقیاتی کاموں میں لگ سکیں۔ مگر، ان کے بیان کے مطابق، دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان نا جنگ معاہدہ پر صرف اس لئے اب تک دستخط نہ ہوسکے کہ انڈیا کا اصرار تھا کہ مسودہ میں ایک دفعہ یہ بڑھائی جائے کہ پاکستان کسی بیرونی ملک کو اپنی زمین پر فوجی بیس بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔ میرے نزدیک پاکستان اور ہندوستان دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف شبہات کا شکار ہیں۔ مگر انڈیا کے بارہ میں پاکستان کا شبہہ بھی غلط ہے اور پاکستان کے بارہ میں انڈیا کا شبہہ بھی غلط ہے۔ یہ شبہات ایسے ہی بے بنیاد ہیں جیسے کہا جائے کہ انڈیا یا افغانستان کو اپنے ملک کا ایک صوبہ سمجھتا ہے، حتی کہ بنکاک پورٹ بلیر، سنگاپور، مالدیپ وغیرہ کو بھی، کیوں کہ اس نے ان تمام جگہوں پر ایر انڈیا کے بجائے انڈین ایئر لائنز کے تحت اپنی ہوائی سروس جاری کر رکھی ہے۔

ایک معاملہ کو شبہ کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ بھا جلے تو دہ بھیا تک بن جاتا ہے۔ اسی معاملہ کو شبہات سے اوپر اٹھ کر دیکھیں تو وہ معمولی قسم کا ایک سادہ واقعہ معلوم ہوگا۔

”تھوڑی دیر بعد ہمارا جہاز کابل کے ہوائی اڈہ پر اترے گا“ اناؤنسر نے اعلان کیا۔ چند منٹ میں جہاز بالکل نیچے آگیا اور ہوائی اڈہ کی زمین صاف دکھائی دینے لگی۔ اتنے میں اچانک ہوائی جہاز اوپر اٹھنے لگا۔ اس نے فضا میں بلند ہو کر چند چکر لگائے اور پھر کسی قدر تاخیر کے ساتھ ہوائی اڈہ پر اترا۔ وجہ غالباً یہ تھی کہ کچھ فوٹو گرافر ہوائی جہاز کا فوٹو لینے کے لئے رن وے پر آگئے تھے۔ اترنے کی صورت میں چوں کہ ان سے ٹکراؤ کا اندیشہ تھا، اس لئے پائلٹ نے جہاز کا رخ دوبارہ اوپر کی طرف کر دیا۔ اور ہوائی اڈہ کا چند

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page