Al-Risala · February 1989 · page 36

صدر اسلامی مرکز

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۳۶

چکر لگا کر دوبارہ نیچے آیا۔

جہاز میں بیک وقت دونوں صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ وہ اوپر جاکر دوبارہ نیچے آسکتا ہے ، اسی طرح وہ نیچے آکر دوبارہ اوپر کی طرف اٹھ سکتا ہے۔ یہی دو گونہ صفتیں زندگی کے وسیع تر سفر کے لئے بھی درکار ہیں۔ جو لوگ صرف ایک رخ پر بڑھنا جانتے ہوں ۔ وہ اوپر جاکر نیچے نہ اتریں، یا نیچے آکر دوبارہ اوپر نہ جاسکیں، ایسے لوگ کبھی کامیابی کے ساتھ اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتے۔

ہوائی اڈہ پر اترا تو نظر آیا کہ اوپر ہر طرف فوجی ہیلی کا پٹرا ڑ رہے ہیں۔ ۔ یہ اہتمام سیکیورٹی کی غرض سے کیا گیا تھا۔ میں نے فضا میں دیکھا تو اڑتے ہوئے ہیلی کاپٹر بار بار کوئی چیز گرارہے تھے جو باہر آتے ہی آگ کے گولے کی طرح جل اٹھتی تھی۔ ایک منٹ کے بعد وہ سفید دھوئیں کی لکیر کی طرح فضا میں پھیل جاتی تھی۔ یہ واقعہ نفس میں بار بار ہورہا تھا۔

ایک افغانی سے میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ "پہاڑوں " کی طرف سے لوگ امریکہ کے بنے ہوئے اینٹی ائیر کرافٹ مزائل مارتے ہیں جن کو اسٹنگر (Stinger) کہا جاتا ہے۔ ان اسٹنگروں میں یہ صفت ہے کہ وہ گرم ہیٹر کی طرف تیزی سے جاتے ہیں جس رخ پر انہیں پھینکا گیا ہے ، وہاں سب سے زیادہ گرم چیز ہوائی جہاز کا انجن ہے۔ چنانچہ وہ انجن کا پیچھا کر کے اس کو مارتے ہیں۔ شروع میں اسٹنگر ہوائی جہازوں کو مار گرانے کا بالکل یقینی ذریعہ تھے۔ مگر اس کے بعد روسیوں نے ایک چیز ایجاد کر کے اسٹنگر کو بڑی حد تک بے اثر بنادیا ہے۔ اس ایجاد کا نام فش (Fish) ہے۔ فش کوئی کیمیکل ہے۔ جب اس کو ہیلی کاپٹر کے باہر پھینکا جاتا ہے تو وہ بھڑک کر جل اٹھتا ہے۔ یہ جلنے والا مادہ جہاز کے انجن سے زیادہ گرم ہوتا ہے۔ چنانچہ جب اسٹنگر کو اس کی طرف پھینکا جاتا ہے تو وہ جہاز کے انجن کی طرف جلنے کے بجائے جلتے ہوئے گرم مادہ کی طرف جاکر اس سے ٹکرا جاتا ہے۔ اس طرح ہوائی جہاز بچ کر آگے نکل جاتا ہے۔

یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے: یہاں ہر شخص دوسرے شخص کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ زیر نشانہ آدمی کی کامیابی ہے کہ وہ نشانہ بننے سے بچ کر رہے وہ حکماءِ زندگی کے ذریعہ اپنے آپ کو نشانہ بننے سے بچا لے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page