Al-Risala · February 1989 · page 42

آئیں گے غسال کا بل سے کفن جاپان سے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۴۲

آزادی افغانستان توسط امان اللہ خاں غازی در سال ۱۹۱۹ تامین گردید۔ و مردم افغان اورا بدیدہ قدر می نگرند۔ و هیچ کس در افغانستان اورا بد نمی بیند۔ و در راه اعمار افغانستان او بسیار کوشش زیاد نموده است۔

یعنی امان اللہ خان کے ذریعہ ۱۹۱۹ میں آزادی حاصل ہوئی ۔ افغانستان کے لوگ ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ افغانستان میں کوئی بھی شخص ان کو برا نہیں سمجھتا۔ افغانستان کی تعمیر کی راہ میں انھوں نے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں۔

۲۴ اکتوبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر میرے ساتھ دو تعلیم یافتہ افغانی تھے۔ ایک نے اپنا نام راشد بتایا دوسرے نے کمال۔ میں نے ان سے امیر امان اللہ خاں کے بارہ میں پوچھا۔ دونوں نے ان کی بہت تعریف کی ۔ میں نے پوچھا کہ پھر ان کے زوال کا سبب کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ یورپ گئے۔ وہاں انھوں نے جدید تعلیم کو دیکھا اور اس کی اہمیت کو محسوس کیا۔ واپس آئے تو انھوں نے چاہا کہ افغانستان میں اصلاحات کریں اور جدید تعلیم کو یہاں رائج کریں۔

انھوں نے کہا کہ "ملاؤں" کا طبقہ ان کے خلاف ہو گیا۔ افغانی علماء کی اکثریت ان کو کافر اور بے دین کہنے لگی۔ امیر امان اللہ خاں میں اتنی اعلیٰ خصوصیات تھیں کہ پھر بھی شاید ان کے مخالفین کامیاب نہ ہوتے۔ مگر امیر امان اللہ خاں کی ایک غلطی نے انھیں موقع دے دیا، اور وہ ان کی جلد بازی تھی۔ انھوں نے چاہا کہ جدید اصلاحات افغانستان میں فوراً نافذ ہو جائیں۔ مثلاً انھوں نے پہلے ہی مرحلہ میں کچھ افغانی لڑکیوں کو زرنگ کی تعلیم کے لئے یورپ بھیج دیا۔ اس طرح کا کام اگر وہ رفتہ رفتہ کرتے تو کچھ نہ ہوتا، کیونکہ عوام ان سے خوش تھے۔ راشد صاحب نے بتایا کہ میری ماں نے امیر امان اللہ خاں کو دیکھا تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ امان اللہ بہت اچھے اخلاق کے آدمی تھے۔ راستہ چلتے ہوئے بے تکلف عوام سے ملتے اور انھیں پیسہ اور تحفہ پیش کرتے۔ ہر ایک سے یکساں طور پر معاملہ کرتے۔

مگر اس وقت افغانی خاندانوں میں پردہ کا بہت شدت سے رواج تھا۔ جب انھوں نے افغانی لڑکیوں کو نرس کی ٹریننگ کے لئے یورپ بھیجا تو "ملاؤں" کو موقع مل گیا۔ انھوں نے ان کے خلاف ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ اس وقت بھی امان اللہ خاں کی شرافت تھی کہ انھوں نے مخالفین کو دبانے کے لئے پولیس اور فوج کی طاقت استعمال نہیں کی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ خود اپنی قوم کے خلاف مار دھاڑ کریں۔ چنانچہ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page