Al-Risala · February 1989 · page 43

آئیں گے غسال کا بل سے کفن جاپان سے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۴۳

از خود ملک چھوڑ کر چلے گئے۔

امیر اماس اللہ خاں نے ملکی اشیاء رواج دینے کی مہم چلائی۔ انھوں نے کہا کہ اپنے ملک کا کپڑا پہنو۔ اگر کوئی افغانی یا کوئی افسر بیرون ملک کے کپڑے پہنے ہوئے نظر آیا تو انھوں نے فوراً اس کے قریب جا کر اولاً اس کی تعریف کی اور پھر اپنی جیب سے چھوٹی قینچی نکال کر کپڑے کا ایک ٹکڑا کاٹ لیا اور کہا کہ نمونہ گھر یہم ہم تمہارے کپڑے کا ایک نمونہ لے رہے ہیں، اس طرح اس کے کپڑے کو برباد کر دیتے ۔ امان اللہ خاں راتوں کو اکیلے گھومتے تھے۔ چوں کہ کابل میں رات کو اکیلے نکلنا منع تھا، ایک مرتبہ ایک سپاہی نے ان کو گرفتار کر لیا۔ تاہم امان اللہ خاں نے ناخوش ہونے کے بجائے اس کی فرض شناسی پر اس کو انعام دیا۔ امان اللہ خاں نے اپنے ملک میں تعلیم جاری کی، سائنس کی تعلیم کے لئے لڑکوں کو لندن بھیجا۔ ان افغانی طلبہ کے ساتھ انھوں نے ایک عالم بھی حکومت کے خرچ پر روانہ کیا۔ انھوں نے یہ تاکید ہی ہدایت کی کہ ان کے اسکول کے عیسائی لڑکے جب چرچ جائیں تو افغانی لڑکے اس وقت قرآن کی تلاوت کریں (۴۹)

امیر امان اللہ خاں ۱۹۱۹ سے ۱۹۲۹ تک افغانستان کے حکمراں تھے۔ اس کے بعد ملک میں ان کے خلاف بغاوت ہوئی۔ یہاں تک کہ انہیں ملک چھوڑ کر باہر چلا جانا پڑا۔ اسی جلا وطنی کی حالت میں ۲۵ اپریل ۱۹۶۰ کو نیو یارک میں ان کا انتقال ہو گیا۔

امان اللہ خاں کے خلاف بغاوت کرنے والوں کا خاص الزام ان کے اوپر یہ تھا کہ وہ خلاف شرع طریقے ملک میں رائج کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً وہ چاہتے تھے کہ افغان عورتیں گھر سے باہر نکل آئیں اور بے پردہ ہو کر مردوں کے ساتھ کام کریں۔

مگر یہی پٹھان تھے جنھوں نے ان سے تقریباً سو سال پہلے سید احمد شہید بریلوی کے معاملے میں اس سے بالکل مختلف روش اختیار کی۔ سید صاحب نے پٹھانوں کے علاقے میں اسلامی امارت قائم کی اور شرعی قوانین (زکوٰۃ وغیرہ کا قانون جاری کیا۔ مگر پٹھانوں نے شرعی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی امیر امان اللہ خاں کے خلاف بغاوت کو اگر دینی حمیت یا اسلامی جہاد کہا جائے تو سید صاحب کے خلاف بغاوت کو کیا نام دیا جائے گا۔

بیسویں صدی میں مسلم دنیا کو تین ایسے حکمراں ملے جو واقعی معنوں میں مدبر تھے اور دور جدید

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page