پہلا اسکول
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۵
پہلا اسکول
علم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ ہر دوسری مصلحت پر اس کو فوقیت حاصل ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان تعلیم کے میدان میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ تھی کہ موجودہ زمانہ میں جو تعلیمی ادارے قائم ہوئے، ان کے اساتذہ زیادہ تر غیر مسلم تھے۔ مسلمانوں کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ غیر مسلم استاد ہمارے بچوں کو خراب کر دیں گے، اس لیے ان اداروں میں مسلمانوں کو داخل کرنا درست نہیں۔ اس کے نتیجہ میں مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے ہو گئے۔
یہ مصلحت درست نہ تھی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اسلام کی تاریخ میں جو سب سے پہلا اسکول کھولا گیا ، اس کے تمام استاد غیر مسلم تھے۔ یہ اسکول مدینہ میں مشرک قیدیوں کے ذریعہ کھولا گیا۔ بعض لوگ صفہ کو پہلا اسلامی مدرسہ کہتے ہیں۔ مگر صفہ تربیت گاہ تھا نہ کہ تعلیم گاہ۔ اسلام کی پہلی تعلیم گاہ یہ یقینا وہ ہے جو غزوہ بدر کے قیدیوں کے ذریعہ مدینہ میں قائم کی گئی اور اس کے ٹیچر سب کے سب مشرک اور غیر مسلم تھے۔
حتیٰ کہ اس تعلیمی نظام کی بنا پر مدینہ میں مسائل بھی پیدا ہوئے ۔ مثلاً مسند احمد بن حنبل کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کا فدیہ یہ مقرر کیا کہ وہ انصار کے لڑکوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ اس کے بعد ایک روز ایک لڑکا روتا ہوا اپنی ماں کے پاس آیا۔ ماں نے پوچھا تمہارا حال کیا ہے۔ اس نے کہا کہ میرے معلم نے مجھ کو مارا ہے۔ رجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم فداء هم أن يعلموا أولاد الانصار الكتابة - فجاء غلام يوماً يبكي الى امه فقالت ماشانك . فقال ضربني معلمی (سیرة ابن کثیر، جلد ثانی، صفحه ۵۱۲)
یہ قیدی سب کے سب اسلام کے دشمن تھے۔ ان کو چھوڑنے میں یہ اندیشہ تھا کہ وہ دوبارہ اسلام کے خلاف منہ بنیں گے۔ اس کے باوجود انھیں تعلیم کی قیمت پر چھوڑ دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ ہر اندیشے کو نظر انداز کرکے اسے حاصل کرنا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues