Al-Risala · January 1990 · page 9

تصدیق، اعتراف

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۹

تصدیق، اعتراف

مطلوب انسانی شخصیت کے دو درجے ہیں۔ ایک تصدیق کا درجہ، اور دوسرا اعتراف کا درجہ۔ ان دونوں قسم کی شخصیتوں کے دو معیاری نمونے (Models) اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں قائم کر دیے ہیں۔ ایک، ابو بکر بن ابی قحافہ کا نمونہ، اور دوسرا، عمر بن الخطاب کا نمونہ۔

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جس شخص کو بھی اسلام کی طرف بلایا، اس کے لیے اس میں کچھ نہ کچھ تاخیر اور سوچ اور تردد ہوا، سوا ابو بکر بن ابی قحافہ کے۔ جب میں نے ان کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے اس کو قبول کرنے میں کچھ بھی پس و پیش نہ کیا (ما دعوت احدا الى الاسلام الا كانت فيه عنده كبوة و نظر و تردد الا ما كان من ابى بكر بن ابي قحافة مَا عَكَمَ عنه حين ذكرته له وما تردد فيه، سيرة ابن ہشام، الجزء الاول، صفحہ ۲۶۸) عمر بن الخطاب کے اسلام کا معاملہ اس سے مختلف صورت میں پیش آیا۔ ان کے قبول اسلام کا قصہ تفصیل کے ساتھ سیرت کی کتابوں میں آیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ وہ اپنے گھر سے اسلام کو قتل کرنے کے ارادہ سے نکلے اور جب اسلام (قرآن) کو سنا تو خود قتل ہو گئے۔ انھوں نے اپنی بہن اور اپنے بہنوئی کو اس لیے مارا کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ جب بہن کے جسم سے خون بہنے لگا تو اس کو دیکھ کر ان کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے قرآن دکھاؤ۔ اس کے بعد انھوں نے سورہ طٰہٰ پڑھی۔ اس کو پڑھتے ہی ان کے اندر اعتراف کی نفسیات جاگ اٹھی۔ ان کی زبان سے نکلا: ما احسن هذا الكلام واكرمه (سيرة ابن هشام، الجزء الاول، صفحہ ۳۶۷)

ایک انسان وہ ہے جو پوری طرح فطرت خداوندی پر قائم ہے ۔ اس کے سامنے سچائی آتی ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ عین اس کی فطرت کے مطابق ہے۔ وہ فوراً اس کو قبول کر لیتا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کی فطرت پر ماحول کے اثر سے کچھ پردے پڑ گئے ۔ تاہم اس کا انسانی جو ہر بدستور پوری طرح زندہ ہے۔ وہ ابتداً شبہ اور تردد کا شکار ہوتا ہے۔ مگر جب دلائل سے بات واضح ہو جاتی ہے تو اس کے بعد وہ حق کے آگے ڈھیر پڑتا ہے۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو دل و جان سے قبول کر لیتا ہے۔ پہلے کردار کا مثالی نمونہ ابو بکر صدیق ہیں اور دوسرے کردار کا مثالی نمونہ عمر فاروق۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page