Al-Risala · January 1990 · page 10

فانسَب و الى رَبَّكَ فَارغَب

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۱۰

فانسَب و الى رَبَّكَ فَارغَب

کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول نہیں دیا۔ وہ تمہارا وہ بوجھ اتار دیا جو تمہاری پیٹھ توڑ رہا تھا۔ اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا۔ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ پس جب تم فارغ ہو جاؤ تو محنت کرو، اور اپنے رب کی طرف توجہ رکھو (الانشراح) یہ سورہ مکہ کے ابتدائی زمانہ میں اتری ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں جب دعوت توحید کا آغاز کیا تو یہ ان تمام لوگوں کو دینی لحاظ سے غیر معتبر ٹھہرانے کے ہم معنی تھا جو غیر اللہ کی بنیاد پر بڑائی اور سرداری کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ چنانچہ یہ لوگ آپ کے سخت دشمن ہو گئے۔ اور آپ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچانے لگے۔ اس صورت حال نے آپ کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ اس وقت اس سورہ کے ذریعے آپ کو ایک سنت الہیٰ سے باخبر کیا گیا۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں یسر کا رشتہ عسر سے بندھا ہوا ہے۔ اس دنیا میں مشکل کا پیش آنا کسی نئی آسانی کی تمہید ہوتی ہے، بشرطیکہ آدمی حوصلہ نہ کھوئے اور آنے والے بہتر مستقبل کا انتظار کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت سے پہلے یہ مرحلہ گزرا کہ آپ حق کی تلاش میں سخت سرگرداں ہوئے۔ وقت کے ماحول اور مروجہ مذہب میں آپ کو اطمینان نہیں مل رہا تھا۔ " سچائی کیا ہے ؟ " ۴۱ سوال نے آپ کی راتوں کی نیند اور دن کا سکون غارت کر دیا۔ یہ اضطراب اگر چہ ابتداد " عسر " تھا ، مگر اس کے اندر " یسر " کا پہلو نکل آیا۔ کیوں کہ اس نے آپ کو خشک زمین کی مانند بنا دیا تاکہ جب وحی کی صورت میں ہدایت آئے تو اس کی ایک ایک بوند آپ کے اندر جذب ہوتی چلی جائے۔ آپ بھر پور طور پر اس کو اخذ کر لیں۔ وہ پوری طرح آپ کے ذہن کو واضح اور روشن کر دے۔ دوسری چیز جو مذکورہ سنت کے لئے بطور مثال پیش کی گئی ، وہ رفع ذکر کا معاملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے جن لوگوں کو مخالفت پیدا ہوئی، انھوں نے اس کو ناکام

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page