طلبہ کے نام
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۱۰
طلبہ کے نام
ایک عربی درس گاہ کے طلبہ کو ایک بار مجھے خطاب کرنے کا موقع ملا۔ میں نے کہا کہ صحیح ابن حبان میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے ایک روایت آئی ہے۔ اس میں مسلم عاقل کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کو اپنے زمانہ سے باخبر ہونا چاہیے (ان يكون بصيراً بزمانه)، یہ ایک بے حد اہم ہدایت ہے۔ اس کے مطابق آپ کو چاہیے کہ آپ صرف واقف دین نہ بنیں بلکہ اسی کے ساتھ واقف زمانہ بھی بنیں ۔ اس کے بعد ہی آپ موجودہ زمانہ میں دین کی صحیح خدمت کر سکتے ہیں۔ واقف زمانہ بننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم اور سازش" کو جاننے کے ماہر بن جائیں ۔ یہ میرے نزدیک سطحیات ہے نہ کہ علم ۔ یہ ظواہر کو جاننا اور حقائق سے بے خبر رہنا ہے ۔ اور علم بلا شبہ یہ ہے کہ آدمی اصل حقیقت کو جانے ، نہ یہ کہ اس کی نگاہ ظاہری چیزوں میں اٹک کر رہ جائے۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے خلاف سازش اور ظلم میں مصروف ہیں۔ تب بھی اصل جاننے کی بات یہ ہے کہ وہ کیا اسباب ہیں جنہوں نے ان قوموں کو یہ حیثیت دیدی ہے کہ وہ ہمارے خلاف کامیاب سازشیں کر سکیں ۔ وہ ہمارے خلاف اپنے ظالمانہ منصوبوں کی کامیاب تعمیل کریں اور ہمارے تمام اعاظم و اکابر اس کو روکنے میں مکمل طور پر عاجز ثابت ہوں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اصل کمی یہ ہے کہ وہ عصرِ حاضر سے بالکل ناواقف ہیں۔ وہ گزرے ہوئے ماضی کے واقعات کو جانتے ہیں۔ مگر آج کے واقعات کی انھیں مطلق خبر نہیں۔ ان میں سے کوئی شخص اگر کچھ جانتا ہے تو وہ بھی ظاہری نتائج کو جانتا ہے نہ کہ نتائج کے اصل اسباب کو۔ مدارس دینیہ کے طلبہ اگر صرف "حیوانِ کاسب" بن کر نہیں رہنا چاہتے ، بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو اسلام اور ملتِ اسلام کے احیاء میں مفید طور پر لگائیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ عصر حاضر کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ جانیں، وہ موجودہ زمانہ کی ان تبدیلیوں سے واقفیت حاصل کریں جنھوں نے ہمارے مروجہ طریقوں کو عملی اعتبار سے بالکل غیر مؤثر بنا کر رکھ دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues