حسرت کادن
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۱۱
حسرت کادن
قرآن میں قیامت کے دن کو ندامت اور حسرت کا دن (مریم ۳۹) کہا گیا ہے۔ قیامت کے دن جب تمام حقیقتیں کھلیں گی تو آدمی اچانک محسوس کرے گا کہ دنیا میں کیسے کیسے قیمتی مواقع تھے جب کہ وہ خدا پرستی کا ثبوت دے کر آخرت میں اس کا انعام پا سکتا تھا۔ مگر اس وقت اس نے یہ مواقع کھو دیے اور اب یہ مواقع کبھی اس کے لیے آنے والے نہیں۔ مواقع کو کھونے کا یہ احساس بلا شبہ سب سے بڑی نفسیاتی سزا ہوگی جو ابدی طور پر آدمی کو تڑپاتی رہے گی۔ دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَإِنَّهُۥ لَتَذۡكِرَةٞ للمتقين۔ وانا لنعلم ان منکم اور بلاشبہ یہ یاد دہانی ہے ڈرنے والوں کے مکذبین۔ وانہ لحسرة على الكافرين لیے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں اس کے جھٹلانے (الحاقہ ۴۸ - ۵۰) والے ہیں اور وہ منکروں کے لیے پچھتاوا ہے۔
دنیا میں بار بار آدمی کے سامنے وہ مواقع آتے ہیں جب کہ وہ ایک عمل کر کے آخرت کا انعام حاصل کر سکے۔ مگر آدمی ظلم اور سہلو (رامل ۱۴) کی بنا پر مطلوبہ عمل نہیں کرتا۔ ایسے لوگ جب دنیا سے نکل کر آخرت میں پہنچیں گے تو اچانک وہ محسوس کریں گے کہ یہاں ان کے لیے حسرت اور پشیمانی کے سوا اور کچھ نہیں۔
اب ایک ایک کر کے انھیں وہ گزرے ہوئے لمحات یاد آئیں گے جب کہ ان کے سامنے آخرت کے لیے عمل کرنے کا ایک مواقع آیا، مگر انھوں نے اس موقع کو بیدردانہ طور پر کھو دیا۔ اس وقت آدمی کہے گا کہ آہ ، میرے سامنے امر حق ظاہر ہوا جس کا ساتھ دے کر میں حق کا اعتراف کرنے والا بن سکتا تھا۔ مجھے موقع ملا کہ میں حق کو اس کے حقدار کے حوالہ کر دوں۔ مجھے یہ موقع ملا کہ میں حق کی گواہی دینے والا بنوں ۔ مجھے یہ موقع ملا کہ میں درست بات کہوں ، خواہ وہ میرے موافق ہو یا میرے خلاف۔ مجھے موقع ملا کہ میں ان لوگوں میں بنوں جو خدا کے خوف سے اپنی زبان بند کر لیتے ہیں ، مگر ان مواقع کو میں نے کھو دیا۔ میں اپنے آپ کو خدا کے مطلوب بندوں کی فہرست میں درج نہ کرا سکا۔ میں نے دنیا میں نیکی کے موقع کو کھویا تھا، اس لیے آخرت میں انعام کے مواقع میں بھی اب میرا کوئی حصہ نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues