Al-Risala · March 1990 · page 18

ایک پروگرام

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۱۸

ایک پروگرام

ڈاکٹر ایم سی شرما (عمر ۵۶ سال) سے ۱۹ جولائی ۱۹۸۹ء کو ملاقات ہوئی ۔ وہ آر ایس ایس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی پیدائش چورو (راجستھان) میں ہوئی ۔ اسکول میں طالب علمی کے زمانہ میں وہ آر ایس ایس سے وابستہ ہوئے ۔ وہ اس کے ایک کٹّر ممبر تھے ۔ ان کا خیال یہ ہوگیا کہ ہندوستان کی تمام مصیبتوں کے ذمہ دار گاندھی تھے ۔ وہ گاڈسے کو ہیرو کے روپ میں دیکھنے لگے جس نے ۱۹۴۸ء میں گاندھی جی کو گولی مار کر قتل کر دیا ۔

وہ اپنے انتہا پسندانہ خیالات پر تھے کہ ۱۹۷۵ء میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ہندوستان میں ایمرجنسی نافذ کی ۔ آر ایس ایس کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ انھیں میں سے ایک ڈاکٹر شرما بھی تھے۔ انھوں نے بتایا کہ جیل کی نظر بندی کے زمانہ میں ان کے پاس کوئی کام نہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے مہاتما گاندھی کا مطالعہ شروع کر دیا ۔ گاندھی جی کی کتابیں جیل میں آسانی کے ساتھ دستیاب تھیں ۔ اس لیے مطالعہ کو جاری رکھنے میں انھیں کوئی دقت پیش نہیں آئی ۔

انھوں نے بتایا کہ اس مطالعہ نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا ۔ جب میں جیل سے نکلا تو میں ایک بالکل بدلا ہوا انسان تھا ۔ اب میرا خیال یہ ہے کہ گاندھی اس ملک کے سب سے بڑے رہنما تھے ۔ ساور کر جیسے لوگ جدید ہندوستان کے رہنما نہیں بن سکتے تھے ۔ اس کام کو کرنے کے لیے گاندھی اور نہرو جیسے لوگ درکار تھے۔ ڈاکٹر شرما کی روداد سننے کے بعد مجھے یہ خیال آیا کہ ہندوستان میں کرنے کا ایک ضروری کام یہ ہے کہ شہر سے الگ کسی پرسکون مقام پر ایک مرکز بنایا جائے ۔ یہاں اسلام کو سمجھنے اور اس کا مطالعہ کرنے کے لیے ہر قسم کی سہولتیں جدید معیار پر موجود ہوں ۔ اسی کے ساتھ وہاں قیام کا اچھا بندوبست ہو۔ اس کے بعد تعلیم یافتہ ہندو نوجوانوں کو یہاں بلایا جائے ۔ اور چند دن یا چند ہفتہ ٹھہرا کر انھیں اسلام سے واقف کرانے کی کوشش کی جائے ۔ اگر ایسا مرکز قائم کیا جا سکے تو اس سے وہی فائدہ زیادہ بڑے پیمانہ پر حاصل ہوگا جو ڈاکٹر شرما کے حق میں جیل کا ہوا ۔

اگر ایسا مرکز قائم ہو تو وہ ہندو نوجوانوں کو اسلام سے قریب کرنے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ یہاں تک کہ یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورہ مرکز اس ملک میں اسلام کی جدید تاریخ بنانے کا دروازہ کھول دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues

Printed page