ضمیر کی طاقت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۱۹
ضمیر کی طاقت
ابوالبرکات علوی (۶۳ سال، نظام پور ضلع اعظم گڑھ (یوپی) کے رہنے والے ہیں۔ ۲۹ اگست ۱۹۸۹ کی ملاقات میں انہوں نے اپنے علاقہ کا ایک واقعہ بتایا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اعظم گڑھ کے شمال مغرب میں ایک گاؤں ریدا ہے جو مجھوئی ندی کے کنارے فیض آباد کی سرحد پر واقع ہے۔ یہاں چار گھر مسلمانوں کے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں ہندوؤں کے دو سو گھر آباد ہیں۔ نومبر ۱۹۸۷ میں ایسا ہوا کہ باہر سے ایک نیل گائے آیا اور گنے کے کھیت میں داخل ہو گیا۔ ایک مقامی مسلمان جھنو درزی نے چاہا کہ اس کا شکار کیا جائے ۔ انھوں نے پڑوس کے گاؤں مخدوم پور میں ایک مسلمان کو اس کی خبر کی جس کے پاس بندوق ہے۔ وہ اپنی بندوق لے کر آئے اور نیل گائے پر فائر کیا۔ اگر نیل گائے موقع پر مر گیا ہوتا تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ مگر نشانہ صحیح نہیں لگا۔ نیل گائے زخمی ہو گیا اور خون بہاتا ہوا بھا گا۔ ہندوؤں نے جب جابجا خون دیکھا تو وہ مشتعل ہو گئے۔ ان کو معلوم ہوا کہ جھنو درزی نے مخبری کر کے نیل گائے پر گولی چلوائی ہے تو انھوں نے گاؤں میں پنچایت کی اور جھنو کو بلا کر اس کو یہ سزا سنائی کہ تم نے جو قصور کیا ہے اس کے بدلے تمہارے اوپر ایک ہزار روپیہ جبرانہ عائد کیا جاتا ہے۔
اس گاؤں میں کوئی سطحی لیڈر جھنو درزی کو بہکانے کے لیے موجود نہ تھا اور نہ مسلمانوں کا وہاں کوئی زور تھا جو جھنو درزی کو جھوٹے بھرم میں مبتلا کرے۔ چنانچہ فطرت نے جھنو درزی کی رہنمائی کی۔ وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا: پنچوں کا فیصلہ مجھ کو منظور ہے۔ میں غریب آدمی ہوں، میرے پاس نقد روپیہ موجود نہیں۔ مگر میں اپنے گھر کا سامان بیچ کر اس کو ادا کروں گا۔ تین دن گزرے تھے کہ ہندوؤں کا ضمیر جاگ اٹھا۔ انہوں نے دوبارہ اپنے لوگوں کی پنچایت بلائی۔ انھوں نے آپس میں کہا کہ یہاں مسلمان بہت تھوڑے اور کمزور ہیں۔ باہر کے لوگ جب سنیں گے کہ ہم نے ان سے جرمانہ وصول کیا ہے تو وہ ہم لوگوں کو بہت گرا ہوا سمجھیں گے اور ہماری بے عزتی ہوگی کہ ہم نے مسلمانوں کو کمزور پا کر انہیں دبا لیا اتفاق رائے سے یہ طے ہوا کہ جھنو درزی سے جرمانہ نہ لیا جائے۔ چنانچہ اس متفقہ فیصلہ کے مطابق جھنو درزی کا جرمانہ معاف کر دیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues