تجربہ کے بعد
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۲۱
تجربہ کے بعد
ایک امریکی خاتون لنڈا برٹن (Linda Burton) نے اپنے خاندانی تجربات پر ایک کتاب لکھ کر شائع کی ہے جس کا نام ہے ــ تمہارے جیسی ایک تیز عورت گھر پر رہ کر کیا کام کرتی ہے : What's a Smart Women Like You Doing at Home? مذکورہ خاتون کی کہانی کا خلاصہ، ان کے لفظوں میں یہ ہے کہ میرا گھر پر رہنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں ایک کمپنی میں پورے وقت کی ملازم تھی۔ ۳۳ سال کی عمر میں میرے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس کو سنبھالنے میں مجبورانطو رپر مجھے اپنی ملازمت چھوڑنی پڑی۔ یہاں تک کہ میرے لیے معاشی مسائل پیدا ہو گئے۔ اور میں نے دوبارہ باہر کا کام کرنا شروع کر دیا۔
میں اپنے بچے کے لیے شام کا وقت اور ہفتہ کی چھٹی کا دن دے سکتی تھی۔ مگر وہ ناکافی تھا۔ اب میں نے اس کے لیے تحفظ اطفال کا ایک ادارہ تلاش کیا۔ مگر ایک مہینہ کے بعد ہی اس کو ناقص سمجھ کر مجھے چھوڑ دینا پڑا۔ میں ملازمت ترک کر کے دوبارہ گھر پر رہنے لگی تا کہ بچے کی دیکھ بھال کر سکوں۔ میں دو سال تک کسی زیادہ بہتر ادارہ کی تلاش میں رہی۔ یہاں تک کہ میرے یہاں دوسرا بچہ پیدا ہو گیا۔ میں نے دوبارہ ایک ملازمت کر لی اور اپنے دونوں بچوں کو گھریلو قسم کے تحفظ اطفال کے ادارہ میں ڈال دیا۔ مگر اس کی کارکردگی پر مجھے اطمینان نہ ہو سکا۔ آخر کار میں نے خود اپنے گھر پر انفرادی خدمات حاصل کیں۔ میں نے پایا کہ آپ خواہ کتنا ہی قاعدہ قانون بنائیں۔ کتنا ہی زیادہ رقم خرچ کریں مگر یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے کے لیے محبت کر سکے :
In time, my search for child care taught me a critical lesson: no matter how many licences we issue, how many guidelines we estab- lish or how much money we pay, it is impossible to have quality controls over the capacity of one human being to love and care for another (p. 94). میں ایک ایسا شخص چاہتی تھی جو نرم مزاح اور محبت کرنے والا ہو۔ جو مستعد اور کسی قدر پر مزاج ہو۔ ایک زندہ شخص جو میرے بچوں کی تخلیقیت کو بڑھائے، وہ ان کو تفریح کے لیے باہر بھی لے جائے۔ وہ ان کے تمام چھوٹے چھوٹے سوالوں کا جواب دے۔ وہ ان کو میٹھی نیند سلائے۔ آہستہ آہستہ اور تکلیف دہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues