Al-Risala · March 1990 · page 20

اسلام کی تصدیق

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۲۰

اسلام کی تصدیق

امریکہ کی خواتین میں آج کل ایک نئی تحریک ابھر رہی ہے جس کو تحریک نسواں ثانی (Women's Movement II) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے علم برداروں کے دعوے کے مطابق، یہ قدیم تحریک نسواں ہی کی توسیع ہے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ قدیم تحریک نسواں ایک غیر حقیقی تحریک تھی، اس لیے اس پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ ایک مبصّر نے بجا طور پر اس کو تحریک میں ایک خاموش تبدیلی (quiet shift) قرار دیا ہے۔ امریکی ماہنامہ اسپان (Span) جولائی ۱۹۸۹ء میں اس تحریک کا تعارف شائع ہوا ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ موجودہ امریکی عورتیں بدحالی کا شکار ہیں۔ کام کرنے والی عورتوں کی دو تہائی تعداد ۱۳۰۰۰ ڈالر سالانہ سے کم کماتی ہے جو امریکہ میں زندگی گزارنے کے لیے ناکافی ہے۔ حمل، بچوں کی نگہداشت اور دوسرے نسوانی مسائل نے عورت کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ واضح ہو کہ امریکہ میں ۲۵-۴۵ سال کے درمیان کی عورتوں کی ۷۰ فی صد تعداد دفتروں اور کارخانوں میں کام کرتی ہے۔ مگر عورتوں کو عام طور پر مردوں سے کم تنخواہ ملتی ہے۔ بڑے عہدے انہیں حاصل نہیں۔

تحریک نسواں اول کا سارا زور اس پر تھا کہ عورت اور مرد ہر اعتبار سے برابر ہیں۔ عورتوں کو اگر آزادی مل جائے تو وہ مردوں ہی کی طرح اپنی زندگی کی تعمیر کر سکتی ہیں۔ عورتوں کو مکمل آزادی مل گئی۔ مگر اب معلوم ہوا کہ عورت کو آزادی کے ساتھ تحفظ (protection) کی ضرورت ہے۔ صرف اپنی ذاتی بنیاد پر وہ کھڑی نہیں ہو سکتی۔ تحریک نسواں دوم کی ایک خاتون لیڈر ٹار وہلم (Tarr-Whelam) نے کہا کہ ــــ یہ بات واضح ہے کہ عورتوں کے حقوق حاصل کرنے کے لیے اب ریاستیں ہی ہمارے لیے عمل کا مقام ہیں : But it is clear that to win women's rights, the states are now the place for action (p. 37). مغربی عورت نے پہلے برابری کا حق مانگا تھا۔ اس کو برابری کا حق مل گیا۔ اب اس کو معلوم ہوا کہ صرف برابری کا حق کافی نہیں۔ اس کو اسی کے ساتھ مزید سپورٹ کی ضرورت ہے۔ وہ گھریلو قوام کو اپنا قوام بنانے پر راضی نہ ہوئی نتیجہ یہ ہے کہ اس کو حکومت کو اپنا قوام بنانا پڑا۔

اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ زمانہ آج اسلام کے موافق سمت میں جا رہا ہے۔ انسان کے تجربات

‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues

Printed page