سفرنامہ افریقہ - ۳
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۳۰
فلسطین میں پیدا ہوئے۔ آخری دنوں میں وہ پی ایل او کے فوجی کمانڈر کی حیثیت سے تیونس میں مقیم تھے ۔ ان کی تدفین دمشق میں ہوئی۔
ابو جہاد اپنی خطر ناک سرگرمیوں کی وجہ سے اسرائیل کے لئے درد سر بنے ہوئے تھے۔ وہ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی گوریلا جنگ کے کمانڈر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مارچ ۱۹۷۸ میں انھیں کے منصوبہ کے مطابق ایک اسرائیلی سڑک سے ایک بس کا اغوا کیا گیا تھا اور اس کے ۲۵ یہودی مسافر قتل کر دئے گئے تھے۔
اس طرح کے مختلف واقعات کی بنا پر اسرائیل کے حکمران ابو جہاد سے بگڑے ہوئے تھے۔ آخر کار ایک نہایت منظم منصوبہ کے تحت ۱۶ اپریل ۱۹۸۸ء کو انھیں قتل کر دیا گیا۔ اس خفیہ منصوبہ کی تفصیل امریکی ہفتہ وار ٹائم ۲۵ اپریل ۱۹۸۸ء اور ۲ مئی ۱۹۸۸ء میں شائع ہوئی ہے۔ ٹائم (۲ مئی ۱۹۸۸ء) کے مطابق اسرائیلی پارلی منٹ کے ایک ممبر یوسی سريد (Yoshi Sarid) نے کہا کہ ایک کے بعد ایک ابو جہاد ختم کئے جاسکتے ہیں مگر یہ چیز فلسطینی مسئلہ کو ختم نہیں کرسکتی: Abu after Abu can be liquidated. But this will not liquidate the Palestinian problem (p.17). ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے جون ۱۹۸۸ء کے پہلے ہفتہ میں شام کا دورہ کیا تھا۔ دمشق میں انھوں نے ۴ جون ۱۹۸۸ء کو ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے دمشق کی خصوصیت بتاتے ہوئے کہا کہ محمد بن قاسم یہاں سے روانہ ہو کر ہندوستان پہنچے تاکہ وہاں اسلام کے پیغام کو پھیلائیں:
Mohammad bin Qasim set sail from here to India to spread the message of Islam. راجیو گاندھی کے اس بیان پر ہندوستان کے کچھ فرقہ پرستوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا دہلی کے انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر (۱۹ جون ۱۹۸۸ء) نے لکھا تھا کہ راجیو گاندھی اپنے آقا وں کو خوش کرنے کے لئے ایسا کہہ رہے ہیں۔ ورنہ محمد بن قاسم ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کے لئے نہیں آیا۔ وہ قتل اور لوٹ اور زنا کاری کے لئے یہاں آیا تھا (صفحہ ۱۶، یہی بات ہندو مہا سبھا کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues