Al-Risala · March 1990 · page 31

سفرنامہ افریقہ - ۳

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۳۱

صدر جمیٹ پاٹل نے اپنے ایک مراسلہ کہی جوٹائمس آف انڈیا (۲۰ جون ۱۹۸۸) میں چھپا تھا۔ مسٹر جیئمت پاٹل نے اپنے دعوے کی تائید میں مورخ بلاذری کا حوالہ دیا تھا۔ مگر یہ حوالہ سراسر غلط ہے۔ احمد بن یحییٰ البلاذری دم ۶۹۲ء) کی کتاب فتوح البلدان میں اس قسم کی کوئی بات موجود نہیں۔ بلکہ اس کتاب میں محمد بن القاسم کی تصویر اس سے یکسر مختلف نظر آتی ہے جو مذکورہ مضامین میں اس کی بتائی گئی تھی۔

عربوں نے سندھ کو آٹھویں صدی عیسوی (۷۱۲ء) میں فتح کیا تھا۔ اور البلاذری کا زمانہ نویں صدی عیسوی ہے۔ اس طرح وہ ایک قریب العہد مورخ ہے۔ البلاذری نے جو کچھ لکھا ہے، اس میں میں ایک بات یہ ہے کہ دمشق میں اندرونی سازشوں کی وجہ سے نوجوان محمد بن القاسم کو دمشق واپس بلا لیا گیا جہاں اس کو قید کر دیا گیا۔ تاہم سندھ میں وہ نہایت نیک نام تھا۔ چنانچہ سندھ کے مقامی باشندوں کے رد عمل کا ذکر کرتے ہوئے البلاذری نے لکھا ہے کہ ان کو جب اس کی خبر ملی تو ہندوستان کے لوگ روئے اور انھوں نے کیرج کے مقام پر محمد بن القاسم کا بت بنایا (فتوح البلد الهند و صورہ بالکیرج، صفحہ ۲۳۶)

محمد بن القاسم کا کر دار اگر وہ ہوتا جو ہندومہاسبھا کے صدر یا آرگن ائزر کے مضمون نگار بتا رہے ہیں تو یہ نا ممکن تھا کہ اہل سندھ کے درمیان اس کو یہ محبوبیت اور مقبولیت حاصل ہو کہ وہ اس کے سندھ سے جانے کے بعد اس کا ماتم کریں، حتیٰ کہ اس کا بت بنائیں اور اس کے سامنے غیر معمولی عقیدت و احترام کا اظہار کریں۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳-۱۹۷۹ء) نے ۱۹۵۹ کے آخر میں بعض عرب ممالک کا دورہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں وہ شام (دمشق) میں بھی چند دن ٹھہرے ۔ اس سفر کی رو داد مولا نا موصوف کے رفیق سفر مولانا محمد عاصم صاحب نے مرتب کی ہے جو ”سفر نامہ ارض القرآن“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے ۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے :

”مولانا ان کے سوالات کا اطمینان اور تفصیل سے جواب دیتے رہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق مولانا نے بتایا کہ ان کی حالت ویسی ہی ہے جیسے اسرائیل میں عربوں کی۔ یہ مختصر جواب نہایت مؤثر رہا۔ اس مثال کے بغیر اگر ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت کے متعلق کوئی مفصل تقریر بھی کی جاتی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues

Printed page