تو شاید وہ اتنی مؤثر نہ ہوتی" صفحہ ۳۳
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۳۵
حافظ عبدالكریم صاحب کا ایک خاص نظریہ تھا جس کو وہ "تطهیرِ كراول" کیے لفظوں میں بیان کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمل ہمیشہ فکر کے تحت ہوتا ہے۔ فکر اگر صحیح نہ ہوگا تو عمل بھی صحیح نہ ہوگا۔ میں نے کہا کہ یہی جڑ کی بات ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہماری تمام تحریکیں ناکام ہوگئیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ ان کے رہنماؤں نے تطہیر فکر کا اول کام کے بغیر عملی اقدام کے ثانوی کام سے اپنے سفر کا آغاز کرنا چاہا۔ ایسی تحریک کے لئے موجودہ اسباب کی دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔ خلافت تحریک کی ناکامی کا سبب بھی یہی ہے۔
" پاکستان ابھی تک پاکستان نہ بن سکا" ایک "اسلام پسند" پاکستانی نے کہا۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان اس لئے بنا تھا کہ وہاں اسلامی نظام قائم کیا جائے، مگر ابھی تک پاکستان میں اسلامی نظام قائم نہ کیا جا سکا۔ اگر آپ پاکستان جائیں یا پاکستان کے اخبارات پڑھیں تو یہ بات آپ کو بے شمار لوگوں کی زبان سے سنائی دے گی۔
وہ کون ہے جس نے نصف صدی گزرنے کے باوجود ابھی تک پاکستان کو پاکستان بننے نہیں دیا۔ اس کے جواب میں لوگ مختلف طاقتوں یا شخصیتوں کا نام لیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس المیہ کے سب سے بڑے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے وجود میں آتے ہی " مطالبہ نظام اسلامی" کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔
۱۹۴۷ میں جو چیز وجود میں آئی وہ صرف ایک جغرافی خطہ تھا۔ اس جغرافی خطہ میں وہ مسلم معاشرہ موجود نہ تھا جو اسلامی نظام کے قیام کا متحمل کر سکے۔ یہاں "اسلام پسند" لوگوں کو صرف یہ کرنا تھا کہ وہ افراد کی ایمانی بیداری اور معاشرہ کی دینی اور اخلاقی اصلاح میں لگ جاتے۔ سیاست کو وہ کچھ عرصہ کے لئے اپنے حال پر چھوڑ دیتے۔ یعنی الکشن میں جو لوگ ووٹوں کی اکثریت حاصل کرتے انہیں موقع دیا جاتا کہ وہ حکومت کریں۔ ایک طرف انفرادی سطح پر اصلاح کا عمل چلتا رہتا اور دوسری طرف الکشن پر دوس اپنی فطری رفتار سے جاری رہتا۔ اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو اب تک یقینی طور پر وہ منزل آ جاتی جو مطالبا تى اسلام کے نتیجہ میں مزید دور ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ وہ بحر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues