Al-Risala · March 1990 · page 36

تو شاید وہ اتنی مؤثر نہ ہوتی" صفحہ ۳۳

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۳۶

عرب کے کنارہ واقع ہے۔ ۱۸ ویں صدی کے آغاز میں کراچی صرف ایک معمولی گاؤں تھا۔ یہاں زیادہ تر مچھیرے رہتے تھے۔ ۱۸۳۹ میں انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا۔ یہ قبضہ بے حداہم تھا۔ یہ واقعہ آخری مغل حکمران بہادر شاہ ثانی کے زمانہ حکومت (۱۸۵۷-۱۸۳۷) میں ہوا۔ اس وقت ہندستان میں بہت سے علماء اور مصلحین موجود تھے۔ مگر مطبوعہ ریکارڈ سے اس کا ثبوت نہیں ملتا کہ ان میں سے کوئی شخص "کراچی" کی اہمیت کو جانتا ہو۔ کراچی کی اہمیت کو جاننے کے لئے سمندری شعور درکار تھا، اور اس وقت مسلم زعماء میں سے ہر ایک صرف "سیاسی طاقت" کو جانتا تھا، ان میں سے کسی کو "سمندری طاقت" کی خبر نہ تھی۔ بدقسمتی سے یہی صورت حال ظاہری فرق کے ساتھ آج بھی باقی ہے۔

انگریزوں نے کراچی پر قبضہ کر کے وہاں اپنی فوجیں رکھ دیں۔ ۱۸۴۳ میں انھوں نے کراچی اور ملتان کے درمیان دریائے سندھ کے راستہ سے پہلی اسٹیمرسروس شروع کی۔ اب کراچی بندرگاہ کی حیثیت سے ترقی کرنے لگا۔ ۱۸۶۷ میں کراچی سے لندن کے لئے براہ راست ٹیلی گراف کا نظام قائم کیا گیا۔ ۱۸۶۹ میں نہر سوئز کھلنے کے بعد کراچی کی اہمیت مزید بڑھھی۔ ۱۸۷۳ تک کراچی ایک مکمل بندرگاہ بن چکا تھا۔ ۱۸۷۸ میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ ۱۹۱۴ میں کراچی پوری برطانوی شہنشاہیت میں گیہوں برآمد کرنے کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ ۱۹۲۲ میں یہاں ایک ہوائی اڈہ بنایا گیا جو اب توسیع کے بعد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ ۱۹۴۷ سے ۱۹۵۹ تک وہ پاکستان کی پہلی راجدھانی تھا۔

سندھ میں توڑ پھوڑ کی سیاست لا متناہی طور پر جاری ہے۔ اس سیاست کے نتیجہ میں کچھ لیڈروں کو شہرت اور مقبولیت مل رہی ہے۔ مگر خود سندھ اور اس کے عوام تیزی سے بدحالی کی طرف جا رہے ہیں۔ اس کا ایک مظہر یہ ہے کہ تاجر طبقہ (ملکی اور غیر ملکی دونوں) سندھ میں اپنا کاروبار سمیٹ رہا ہے اور پنجاب کی طرف اپنا رخ کرنے لگا ہے۔ آج ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ کے اخبار جنگ میں ایک اڈیٹوریل نوٹ (سندھ سے سرمایہ کاروں کی نقل مکانی) نظر سے گزرا۔ اس کے تحت درج تھا:

"ایک اخباری اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں ڈکیتی اور اغوا کے واقعات میں اضافے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues

Printed page