Al-Risala · January 1990 · page 12

فانسَب و الى رَبَّكَ فَارغَب

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۱۲

داخل ہونا ہے۔ جس کو سورہ نصر میں "فتح" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ موجودہ دور نزاع میں جو سخت حالات پیش آ رہے ہیں، وہ آنے والے یسر کی تمہید ہیں۔ اس طرح وہ تمام ضروری اسباب جمع کئے جا رہے ہیں کہ آئندہ جب مرحلہ استحکام آئے تو وہ حقیقی معنوں میں استحکام اور شبہات بن سکے۔ اس عمل کے دوران دعوت کے تمام پہلو پوری طرح واضح ہو جائیں۔ سچے انسان اور جھوٹے انسان ایک دوسرے سے الگ کر دئے جائیں۔ یہ معلوم ہو جائے کہ کون واقعی معنوں میں حق کا طالب ہے اور وہ کون لوگ ہیں جو حق کا نام صرف اس لئے لیتے ہیں کہ اس کی آڑ میں اپنا ذاتی مفاد حاصل کر سکیں ۔ گم نامی میں پڑے ہوئے جواہر نکھر اٹھیں اور مصنوعی شہرت کا لبادہ اوڑھنے والے لوگ بے نقاب ہو جائیں۔

نیز یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کی فکر کو ماحول میں غلبہ حاصل ہو تو اس طرح ہو کہ وہ ان کا ایک ثابت شدہ حق بن چکا ہو ، اور اسی طرح جب آپ کے مخالفین کو مغلوب کیا جائے تو یہ مغلوبیت اس طرح آئے کہ وہ لوگوں کو ایک کھلی ہوئی تاریخی ضرورت دکھائی دینے لگے۔ عصر میں یسر کا یہ تجربہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا، یہی آئندہ بھی آپ کے امتیوں کو ہوتا رہے گا ، بشرطیکہ وہ اسی صراط مستقیم پر چلیں جس پر آپ چلے اور اسی صبر اور استقامت کا ثبوت دے سکیں جس کا ثبوت آپ نے اپنے زمانہ میں دیا۔

دین کامل از مولانا وحید الدین خاں صفحات ۴۶۸ هدیه ۴۰ روپیہ قرآن میں اسلام کو دین کامل کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دین مستحکم ہے۔ اسلام کا ظہور، دین خداوندی کی تاریخ میں ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے۔ اسلام نے خدا کے دین کے ساتھ انسانی تعدی کے دور کو ختم کر دیا اور دین کو تمام پہلوؤں سے کامل کر کے اس کو ایسا مستحکم بنا دیا کہ قیامت تک اس کی برتری باقی رہے وہ اپنے پیروؤں کے لیے ابدی سر فرازی کی ضمانت بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page