Al-Risala · January 1990 · page 11

فانسَب و الى رَبَّكَ فَارغَب

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۱۱

بری تصویر پیش کرتے تاکہ وہ آپ سے اور آپ کے سچے مشن سے بدگمان ہوجائیں۔ مخالفین نے عیب جوئی اور الزام تراشی کی جو مہم چلائی، اس کا مقصد ان کے خیال کے مطابق یہ تھا کہ صاحب دعوت کو بدنام کریں اور اس طرح لوگوں کو آپ کی دعوت سے متوحش کر دیں۔ مگر اس عسر میں بھی یسر کا پہلو نکل آیا۔ مخالفین کے نزدیک وہ آپ کو بدنام کرنے کی کوشش تھی، مگر دوسروں کے لئے وہ تجسس کے ہم معنی بن گئی۔ اس طرح آپ کی شخصیت نہایت وسیع پیمانہ پر لوگوں کے سامنے سوال بن کر کھڑی ہوگئی۔ ہر آدمی تفصیلی طور پر یہ جاننے کا طالب بن گیا کہ محمد کون ہیں اور ان کی دعوت کیا ہے۔

انسانی فطرت ابھی جزئی علم پر قانع نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ پوری بات جاننا چاہتی ہے۔ چنانچہ آپ کے خلاف کچھ باتیں سن کر لوگ اتنے ہی پر رک نہیں جاتے تھے، بلکہ وہ دعوت اور صاحب دعوت کے بارہ میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے براہ راست تحقیق کرتے تھے۔ وہ آپ سے ملتے اور قرآن کا مطالعہ کرتے۔ اس طرح مخالفین کی مخالفت کا یہ نتیجہ ہوا کہ آپ کی دعوت ان دور دور کے حلقوں میں پہنچ گئی جہاں آپ خود کبھی تک اس کو نہیں پہنچا سکتے تھے۔ مخالفین نے آپ کو بدنام کر کے آپ کے بارہ میں لوگوں کے اندر شوق تحقیق پیدا کیا۔ اور جب ان لوگوں نے براہ راست تحقیق کی تو ان میں سے بہت سے لوگ آپ کی دعوت کو حق پا کر اس کے حامی بن گئے۔

اس سورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ عصر کے یسر میں تبدیل ہونے کا دو تجربہ تم کر چکے ہو __ تلاش حق کی بے چینی کے بعد ہدایت کا ملنا ، بدنامی کی مہم سے اشاعت دعوت کے نئے مواقع پیدا ہونا۔ اسی طرح اس سنت الہی کا تیسرا ظہور بھی عنقریب تمہارے سامنے آجائے گا۔ حالات کی فطری رفتار کو اپنی حد پر پہنچنے دو اور مستقبل کے ظہور تک صبر کے ساتھ اس کا انتظار کرو۔

اس تیسرے دور سے مراد دعوت اور صاحب دعوت کا نزا عی دور سے نکل کر مسلمہ دور میں جنوری ۱۹۹۰ | رسالہ 11

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page