ہرگز نہ دبو ایسے شخص سے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۳۹
اس آیت میں "اطاعت نہ کرو" کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اثر نہ لو۔ ان کی باتوں پر دھیان نہ دو۔ ان کی رعایت کرتے ہوئے اپنی دعوت کے انداز میں تبدیلی نہ کرو یہاں "اطاعت" کا لفظ اسی مفہوم میں شدت پیدا کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے نہ کہ یہ بتانے کے لئے کہ ان سے "ہرگز نہ دبو" اس عسکری مفہوم کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک مسلم نوجوان جو کالج میں پڑھ رہے ہیں ، ان سے میں نے یہاں کے تعلیمی اداروں کے حالات پوچھے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں اسکولوں اور کالجوں میں سیاست بازی اور دہشت گردی اتنی عام ہو گئی ہے کہ وہاں اب پڑھنے کا ماحول باقی نہیں رہا۔ مزید یہ کہ یہاں مہلک ہتھیار (کلا شنکوف، ، پستول) ، بالکل عام ہیں۔ کسی بھی وقت ایک شخص اگر ایک طالب علم کو گولی کا نشانہ بنا کر بھاگ جائے گا اور اس کا کچھ نہیں ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ اس صورت حال کی بنا پر اب یہ حال ہے کہ جو لڑکے واقعی پڑھنا چاہتے ہیں ، وہ امریکہ چلے جاتے ہیں۔ اور جب وہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تو اس کے بعد وہ وہیں رہ جاتے ہیں۔ دوبارہ وہ پاکستان واپس نہیں آتے ۔ میں نے کہا کہ یہ تمام نقصانوں میں سب سے بڑا نقصان ہے ۔ جو نوجوان مجبوراً یہاں ٹھہریں وہ اچھی تعلیم حاصل نہ کر سکیں گے اور جن کے پاس وسائل ہوں یا جو زیادہ ہونہار ہوں وہ باہر چلے جائیں گے۔ اکبر الٰہ آبادی نے انگریزوں کے جاری کردہ نظام تعلیم پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا :
بچوں کے کبھی قتل سے بد نام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی اکبر الٰہ آبادی اور ان کے جیسے دوسرے رہنماؤں کو معلوم نہ تھا کہ اصل مسئلہ قوم کی بے شعوری ہے نہ کہ انگریزوں کا تعلیمی نظام ۔ اس بے شعوری کی حالت میں " انگریز" کو یہ ضرورت نہیں کہ وہ ان کے ملک میں آکر ان کے نوجوانوں کو " قتل " کرے۔ وقت کا فرعون اپنے ملک میں رہے گا اور ہماری قوم کے نوجوان خود بھاگ بھاگ کر اس کے یہاں پہنچیں گے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کر دیں گے تاکہ وہ انھیں قتل کر سکے۔
ایک صاحب جو رسالہ پڑھتے ہیں ، انھوں نے راقم الحروف کے انداز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا انداز پر و گورنمنٹ (pro-government) انداز ہے ۔ میں نے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues