ہرگز نہ دبو ایسے شخص سے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۳۸
پڑتا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستان نے تقسیم کو دل سے قبول نہیں کیا ، اسی لئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہیں اور دونوں جگہ ترقی کا عمل رکا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو عین وہی نفسیات ہے جس میں خود پاکستان کے لوگ بہت بڑے پیمانے پر مبتلا ہیں۔ یہاں جب بھی الیکشن ہوتا ہے اور کچھ لوگ جیت کر اوپر آتے ہیں تو ہارنے والے لوگ اُن کی جیت کو قبول نہیں کرتے۔ وہ فوراً فاتح کے خلاف تخریبی کارروائیاں شروع کر دیتے ہیں۔ تخریب کاری کی اس سیاست میں اسلام پسند لوگ بھی پوری طرح شریک ہیں۔ اس کے نتیجہ میں پاکستان کے ماحول میں منفی ذہنیت اور تخریبی مزاج اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ اب اس کے ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ " تم جیتے ، میں ہارا " ایک سادہ سا جملہ ہے ، مگر پاکستان کے بے ریش اور باریش رہنماؤں میں کوئی بھی شخص اب تک اس جملہ کو کہنے کی جراأت نہ کر سکا۔ کراچی کے ہفت روزہ تکبیر (۱۴ ستمبر ۱۹۸۹) میں ایک پورے صفحہ پر نمایاں انداز میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ یہ "ایک خادم ملت " کی طرف سے ہے اور اس کے اوپر قرآن کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ یہ مضمون ایک آیت کے ترجمہ اور اس کے عنوان پر مشتمل ہے جو اس طرح ہے :
ہرگز نہ دبو ایسے شخص سے
ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسَمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے۔ طعنے دیتا ہے۔ چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ۔ بھلائی سے روکتا ہے۔ ظلم و زیادتی میں حد سے گزرنے والا ہے۔ سخت بد اعمال ہے۔ جفا کار ہے اور ان سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے۔ (القلم ۱۰ - ۱۶) ولا تطع کا ترجمہ " ہرگز نہ دبو " اور اس کے اوپر مذکورہ جلی سرخی سے بظاہر یہ تاثر ہوتا ہے کہ یہ آیت ایسے لوگوں سے لڑائی لڑنے کا حکم دے رہی ہے ۔ حالانکہ آیت کا یہ مفہوم نہیں۔ اسی قسم کے ترجموں اور تفسیروں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا یہ مزاج بنا دیا ہے کہ ہر جگہ وہ لڑنے بھڑنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ حکمت اور ہم آہنگی کو انھوں نے بزدلی سمجھ لیا ہے اور نزاع اور تصادم کو جہاد۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues