ہرگز نہ دبو ایسے شخص سے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۴۲
حیدر آباد سندھ میں دوسو سے زیادہ مہاجر شہر یوں کو شہید کر دیا تھا۔ ان میں بوڑھے، جوان، عورتیں، بچے سب شامل تھے۔ ان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مہاجر قومی موومنٹ نے شہیدوں کی پہلی برسی کے موقع پر یوم شہداءِ حیدر آباد منانے کا اعلان کیا ہے۔ دیگر کارروائیوں کے علاوہ پورے حیدر آباد میں جگہ جگہ سیاہ بینر آویزاں کئے گئے جن پر ۳۰ ستمبر کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہ انوکھی خوش قسمتی ہے کہ وہ اگر غیر مسلموں کی گولی سے مارے جائیں تب بھی وہ شہید ہوتے ہیں، اور اگر وہ آپس میں لڑ کر مریں تب بھی شہید ہوتے ہیں۔ خوش قسمتی کی یہ قسم اس سے پہلے کسی دور کے مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آئی۔
نوائے وقت (۳۰ ستمبر ۱۹۸۹) سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں ایک طرف ہٹے سندھ کے نعرے ہیں، اور دوسری طرف جٹے مہاجر کے نعرے۔ صفحہ اول پر مہاجر تحریک کے لیڈر الطاف حسین کی تقریر کی رپورٹ تھی۔ اس کے چند جملے یہ ہیں: ایم کیو ایم کے ارکان قومی اسمبلی نے جس طرح ایوان میں مہاجروں کے حقوق کے لئے آواز بلند کی ہے، اس کی مثال ۲۷ سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ انھوں نے کہا کہ مہاجروں میں جو ش و جذ بہ برقرار رہا تو مہا جروں کو سمندر میں دھکیلنے کا دعوی کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ کسی کو حق نہیں کہ وہ یہ کہنا شروع کر دے کہ جو سندھی نہیں ہے، وہ سندھ سے چلا جائے ۔ ہم نے سندھی بن کر رہنے کے لئے نہیں، بلکہ پاکستانی بن کر رہنے کے لئے پاکستان بنایا تھا۔
الفاظ میں معمولی تبدیلی کر دیجئے تو ہندوستان کا مسلمان لیڈر بھی عین یہی تقریر کر رہا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مسئلہ " ہندو مسلم" کا مسئلہ نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ٹھیک یہی واقعہ پاکستان میں کیوں پیش آتا۔ اصل یہ ہے کہ یہ بے دانشی کا مسئلہ ہے۔ مسلمان ( یا صحیح تر لفظوں میں ان کے رہنما ، دانش کو کھو بیٹھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک ہی قسم کے مسائل سے دونوں جگہ دوچار ہیں، ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی۔
اخبار نوائے وقت (۳۰ ستمبر ۱۹۸۹) میں صفحہ اول پر ایک خبر تھی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے موجودہ امیر قاضی حسین احمد صاحب نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues