ہرگز نہ دبو ایسے شخص سے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۴۴
دہلی پہنچا۔ میرے ساتھ سفر میں ہمیشہ صرف ایک چھوٹا سا ہینڈ بیگ ہوتا ہے۔ نہ مرید گیج اور نہ کسٹم کا کوئی سامان۔ اس لئے جہاز سے اترنے کے بعد مجھے ائیرپورٹ پر رکنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ میں فوراً "گرین چینل" کی طرف سے باہر آ جاتا ہوں ۔ آج بھی ایسا ہی پیش آیا۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جس کو دنیا میں سامان کم ملا، اس کا حساب آخرت میں بھی کم ہوگا (قلة المال اقل للساب، دل نے کہا کاش دنیا کا یہ واقعہ آخرت میں پیش آنے والے معاملہ کی علامت ہو۔ جس طرح دنیا کے ائیر پورٹ نے مجھے آسانی کے ساتھ گزار دیا ، اسی طرح آخرت کے " ائیر پورٹ" پر بھی مجھ کو آسانی کے ساتھ گزار دیا جائے۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز ۔
انسانی جہاز مجھ کو وطن سے اٹھا کر لے گیا اور افریقہ کی زمین پر اتار دیا۔ اور پھر دوبارہ وطن کی طرف واپس لایا۔ موت کا جہاز مجھ کو لے جا کر آخرت کی دنیا میں اتار دے گا جہاں سے واپسی کے لئے کوئی سواری ملنا ممکن نہیں۔ ایک سفر ختم ہوگیا ، دوسرا سفر شروع ہونے والا ہے۔ پہلے سفر کی تاریخیں معلوم تھیں، دوسرے سفر کی کوئی تاریخ معلوم نہیں۔ کتنا فرق ہے ایک سفر میں اور دوسرے سفر میں۔ اسی فرق کو جاننے کا نام ایمان ہے اور اسی فرق کو نہ جاننے کا نام کفر۔ سفر نامہ بہت لمبا ہوگیا۔ مگر اس کی آخری سطر میں لکھتے ہوئے مجھے احساس ہو رہا ہے کہ وہ سراسر نا تمام ہے۔ شاید جو بات لکھنے کی تھی، وہ ہی اس میں لکھنے سے رہ گئی۔ کوئی انسان دوسروں کی کہانی کیا لکھے گا ، وہ خود اپنی کہانی بھی تحریر نہیں کرسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ پڑھنے والے صرف وہ ہیں جو نہ لکھے کو پڑھیں۔ جاننے والے صرف وہ ہیں جو نہ بتائے ہوئے کو جانیں۔ مگر آج کی دنیا میں لکھے ہوئے کو پڑھنے والے بھی موجود نہیں ۔ پھر نہ لکھے ہوئے کو پڑھنے والے اس دنیا میں کہاں ملیں گے۔ خدا اس بندے پر رحم فرمائے جو زبان رکھتے ہوئے بے زبان ہے۔ جس کے پاس قلم ہے۔ مگر جب اس نے قلم اٹھایا تو وہ صرف یہ لکھ سکا کہ میں نے لکھنا چاہا تھا ، مگر میں لکھنے میں نا کام رہا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues