احتساب یا استقبال
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۲
احتساب یا استقبال
ایکسپریس ٹرین تیزی سے وہلی کی طرف بھاگی چلی جارہی تھی ۔ گھڑی بتا رہی تھی کہ اسٹیشن اب قریب آگیا ہے ۔ فرسٹ کلاس ڈبے میں ایک عورت اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ۔ ماں اور بیٹی کے درمیان طرح طرح کی تفریحی باتیں جاری تھیں ۔ اتنے میں بچی نے اپنی مخصوص زبان میں اپنی ماں سے کہا: ممّی ، نانی کا گھر کب آئے گا ۔
بے خبر بچی صرف اپنی نانی کو جانتی تھی ۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ وہ " نانی کے گھر " جارہی ہے۔ مگر یہ اس کی سادگی تھی ۔ کیوں کہ بچی اور دوسرے تمام مسافر حقیقۃً " خدا کے گھر " کی طرف جارہے تھے ۔ دہلی ان کا درمیانی اسٹیشن تھا نہ کہ آخری اسٹیشن ۔
آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو اس کو ایسا محسوس ہوگا گویا کہ وہ انسانی ٹرین پر نہیں ہے ، بلکہ وہ خدائی سواری پر بیٹھا ہوا ہے ۔ اس سواری کو کھینچنے والا کوئی دخانی یا کہربائی انجن نہیں ، بلکہ یہ خدا کے فرشتے ہیں جو اس کو دنیا سے آخرت کی طرف لے جارہے ہیں ۔
مسافروں میں اگر یہ احساس زندہ ہو تو ان کا حال کچھ سے کچھ ہو جائے ۔ اس کے بعد جب دہ وقت آئے گا کہ ٹرین دہلی کے اسٹیشن پر رکے تو نادان بچی کے لیے اگر چہ وہ " نانی کا گھر " ہوگا جہاں اس کی نانی اس کا استقبال کرنے کے لیے پہلے سے اسٹیشن پر موجود ہوگی ۔ مگر سچے مسافر کے لیے وہ خدا کا گھر ہوگا جہاں خدا کے فرشتے ہر آنے والے کو اپنے قبضہ میں لے رہے ہوں گے ۔
آج کی دنیا میں ہر آدمی چھوٹی نادان بچی کی طرح بنا ہوا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی " نانی کے گھر " جارہا ہے ۔ حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ " خدا کے گھر " کی طرف جارہا ہے ۔ وہ استقبال کے اسٹیشن پر نہیں بلکہ احتساب کے اسٹیشن پر اترنے والا ہے ۔
کتنا زیادہ فرق ہے لوگوں کی سوچ میں اور اصل حقیقت واقعہ میں ۔ لوگ اپنے " اسٹیشن " پر استقبال کرنے والوں کی بھیڑ دیکھ رہے ہیں ۔ حالاں کہ صحیح بات یہ تھی کہ انھیں اسٹیشن کے اوپر احتساب کرنے والے فرشتوں کا ہجوم نظر آنے لگے ۔
بے خبری کی تمام قسموں میں یہ بے خبری سب سے زیادہ عجیب ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues