زندگی کی کھیتی
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۳
زندگی کی کھیتی
محمد ابن اسحاق (۱۵۱-۸۵ھ) کہتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ۴۰ سال پہلے کعبہ کے اندر ایک پتھر پایا تھا۔ اس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : مَنْ يَزْرَعْ خَيْرًا يَحْصُدُ غِبْطَةً۔ وَمَنْ جو شخص نیکی بوئے گا وہ قابلِ رشک فصل کاٹے يَزْرَعُ شَرّاً يَحْصُدُ نَدَامَةً۔ تعملون السيئات گا ۔ اور جو شخص بُرائی بوئے گا وہ شرمندگی کی فصل وَتُجْزَوْنَ الحسنات - أجل - كما لا يُجْتَنَى کاٹے گا ۔ تم بُرائی کرو گے اور اچھا بدلہ پا و گے، من الشوك العنب ۔ ہاں ایسا نہیں ہوسکتا ، جس طرح ببول کے پیڑ سے (سيرۃ ابن ہشام ، حصہ اول ، صفحہ ۲۱۳) انگور توڑے نہیں جاسکتے۔
گمان غالب ہے کہ یہ کسی پیغمبرانہ کلام کا حصہ ہے جس کو عرب کے کسی صالح مرد نے ایک پتھر پر عربی زبان میں لکھا اور اس کو کعبہ کے اندر محفوظ کر دیا۔
ان الفاظ میں جو بات کہی گئی ہے ، وہ ایک ابدی حقیقت ہے ۔ وہ تمام پیغمبروں کی بات ہے ۔ وہ قدیم انسان کے لیے بھی تھی ، وہ آج کے انسان کے لیے بھی ہے۔ اور قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے لیے اس کی سچائی باقی رہے گی ۔
نباتات کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کا یہ ناقابل تغیر قانون نافذ ہے کہ پھول کی کھیتی سے پھول اگتا ہے اور کانٹے کی کھیتی سے کانٹا ۔ اس ابدی قانون میں کوئی تبدیلی کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس انتہائی ظاہر اور معلوم قانون کے ذریعہ انسان کو ایک سنگین نوعیت کا عملی سبق دیا ہے ۔ وہ یہ کہ نباتات کے لیے جو قانون ہے ، وہی قانون انسان کے لیے ہے۔ جو شخص بھلائی کی فصل بوئے گا ، وہ لازماً بھلائی کی فصل کاٹے گا ۔ اسی طرح جو شخص بُرائی کی فصل بوئے گا ، وہ لازماً بُرائی کی فصل کاٹے گا ۔
انسان کو چاہیے کہ اس معاملہ میں وہ آخری حد تک چوکنارہے۔ جو آدمی ایسا نہیں کرے گا، وہ ابدی طور پر حسرت اور ندامت کی آگ میں جلتا رہے گا، اور کوئی نہ ہوگا جو اس کو اس برے انجام سے بچا سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues