کارساز
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۶
نے تیرے ساتھ یہ گمان قائم کیا ہے کہ تو میری فکر کرے گا جب کہ میں بے فکر ہو جاؤں۔ تو مجھے یاد رکھے گا جب کہ میں بھول جاؤں۔ تو مجھے سنبھالے گا جب کہ میں پھسلنے لگوں۔ تو میری کار سازی کرے گا جب کہ میں غفلت میں پڑ جاؤں۔ تو میرے لیے جاگے گا جب کہ میں سو جاؤں۔ تو مجھے بخش دے گا جب کہ میں غلطی اور کوتاہی کروں۔ جب کوئی بندہ اِس طرح خدا کو اپنا رب بنالے تو خدا بھی اسی طرح اُس کو اپنا بندہ بنا لیتا ہے جیسا کہ اس نے اپنے رب کے ساتھ گمان کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جتنے واقعات پیش آتے ہیں ، وہ سب سبق کے لیے پیش آتے ہیں۔ مذکورہ بالا قسم کے واقعات بھی در اصل اسی لیے ہیں کہ انسان ان سے سبق حاصل کرے۔ وہ انسانی واقعہ میں خدائی معاملہ کی جھلک پالے۔ وہ وقتی تجربہ میں اس مستقل اور پائیدار تعلق کا تجربہ کرلے جو بندہ اور خدا کے درمیان قائم ہوتا ہے ، جس کو کبھی ٹوٹنا نہیں ہے۔ جس کا سلسلہ دنیا سے آخرت تک چلا جاتا ہے۔ خدا بلاشبہ سب سے بڑا کار ساز ہے۔ مگر وہ اسی شخص کا کار ساز بنتا ہے جو اس کو اپنا کار ساز بنائے۔ جو اس پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دے۔ الرسالہ کیسٹ نمبر ۱ ایمان نمبر ۵ تعمیر ملت نمبر ۲ اسلامی دعوت کے جدید امکانات نمبر ۶ سنتِ رسول نمبر ۳ اسلامی اخلاق نمبر ۷ میدانِ عمل نمبر ۴ اتحاد نمبر ۸ پیغمبرانہ رہنمائی (زیر تیاری) (ہدیہ فی کیسٹ ۲۵ روپیہ)
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues