Al-Risala · April 1990 · page 5

کارساز

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۵

کارساز

ٹائمس آف انڈیا (۳۰ نومبر ۱۹۸۹) کے کالم اوپینین (opinion) میں ایک عنوان نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ اس کے الفاظ تھے ـــــــــــــ میں لاپروا تھا مگر وہ نہ تھے: I was careless; they were not نئی دہلی (فرینڈس کالونی ایسٹ) کے رہنے والے مسٹر کرشن کھنہ کا ایک تجربہ تھا جو مذکورہ سرخی کے ساتھ اخبار میں شائع ہوا۔ اس سرخی کے نیچے جو مختصر مضمون درج تھا، اس کا ترجمہ یہ ہے : "میں کا لکا سے دہلی کے لیے بذریعہ ٹرین سفر کر رہا تھا ۔ میں نے لاپرواہی میں اپنا پرس ریل کوچ کے اندر گرادیا ۔ میں نے سمجھا کہ اس کو کسی نے میری جیب سے نکال لیا ہے۔ مجھے کوئی امید نہ تھی کہ میرا پرس دوبارہ مجھے واپس ملے گا۔ اگلی صبح کو ایک ٹیلی فون آیا۔ یہ ناردرن ریلوے کے ڈیویزنل منیجر کے دفتر سے تھا ۔ مجھے بتایا گیا کہ میرا پرس مل گیا ہے اور وہ ان کے پاس موجود ہے ۔ انھوں نے پرس کے اندر رکھی ہوئی ایک شناختی سلپ کے ذریعے مجھے جانا تھا۔ میں دفتر پہنچا تو میرے پرس کی تمام چیزیں پوری طرح محفوظ تھیں ۔ افسر اور اس کے عملہ نے میرے ساتھ انتہائی خوش اخلاقی کا معاملہ کرتے ہوئے میرا پرس مجھے واپس دے دیا"

I was careless enough to drop my wallet in the rail coach I took from Kal- ka to Delhi. I took my pocket had been picked and had no hope of getting it back. The next morning came a telephone call from the office of Nort- hern Railway's divisional manager to say it had been found. They located me by an identity slip in it. All the contents were intact and I was treated with utmost courtesy by the officer and his staff. (Krishen Khanna)

میں نے اس خبر کو پڑھا تو مجھے کسی فارسی شاعر کا وہ شعر یاد آگیا جو اس نے خدا اور بندے کی نسبت سے کہا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا خدا زیادہ بہتر طور پر ہماری کارسازی کر رہا ہے : کارساز ما به فکر کار ما فکر ما در کار ما آزار ما حقیقت یہ ہے کہ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر اللہ کی طرف سے ہوتا ہے بشرطیکہ کوئی بندہ اللہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کر کے یہ کہہ اٹھے کہ ــــــــــــ خدایا ، انا عند ظن عبدی بی کے مطابق ، میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page