Al-Risala · April 1990 · page 8

انتھاہ امکانات

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۸

فضا میں سب سے زیادہ گرم چیز ہوائی جہاز کا انجن ہوتا ہے اس لیے وہ اس کا پیچھا کر کے انجن سے ٹکرا جاتا ہے ، اس طرح وہ جہاز کو برباد کر دیتا ہے ۔

روسیوں نے اسٹنگر کے توڑ میں ” فش “ کو دریافت کیا۔ یہ خاص قسم کا کیمیائی مادہ ہے جو ہوائی جہاز سے باہر آتے ہی جل اٹھتا ہے اور تیز شعلہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ اس شعلہ کی گرمی ہوائی جہاز کے انجن کی گرمی سے زیادہ ہوتی ہے ۔ اس لیے ہوائی جہاز کی طرف چلایا ہوا اسٹنگر ہوائی جہاز سے ٹکرانے کے بجائے شعلہ (فش) کی طرف جاکر اس سے ٹکرا جاتا ہے ۔ اس طرح ہوائی جہاز اس کی زد سے بچ جاتا ہے ۔

اس واقعہ میں ایک بے حد اہم نکتہ ہے۔ اور وہ ہے فریق ثانی کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا ۔ مقابلہ کی اس دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو فریق ثانی کی کمزوری کو دریافت کر سکیں اور اس سے فائدہ اٹھانے والی اہلیت کا ثبوت دیں ۔

روسیوں نے اس معاملہ میں اسی اہلیت کا ثبوت دیا۔ انھوں نے اسٹنگر کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا کہ وہ اپنے اندر انسانی عقل نہیں رکھتا ۔ اس کی ضرب شعوری ضرب نہیں ہے، وہ ایک میکانکی ضرب ہے ۔ وہ ایک مادی چیز ہونے کی وجہ سے ہوائی جہاز کو نہیں جانتا۔ وہ ” گرمی کو نشانہ بنانا جانتا ہے نہ کہ " ہوائی جہاز " کو ۔ روسیوں نے جیسے ہی اس راز کو دریافت کیا، انھوں نے گویا آدھی جنگ جیت لی ۔ اسٹنگر کے مقابلہ میں فش کا استعمال اسی تدبیر کی ایک کامیاب مثال ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز کا توڑ ہے ۔ یہاں خطرات کے مقابلہ میں ہمیشہ امکانات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ۔ بشرطیکہ مسائل پیش آنے کے بعد آدمی اپنی ہمت کو نہ کھوئے ۔ وہ خدا کی دی ہوئی عقل کو استعمال کر کے خطرہ کا توڑ دریافت کر سکے ۔ یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ لَنْ یغلب عسر یسرين ایک مشکل دو آسانی پر ہرگز غالب نہیں آسکتی) یعنی اس دنیا میں اگر عسر (مشکل) ایک ہے ، تو اس کے مقابلہ میں یسر (آسانی) کی مقدار اس کا دگنا ہے ۔ یہاں اگر ایک راستہ میں رکاوٹ حائل ہوتی ہے تو وہیں دوسرا راستہ آگے بڑھنے کے لیے کھلا ہوا ہوتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page