Al-Risala · April 1990 · page 9

انتھاہ امکانات

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۹

ایسی حالت میں فریاد اور احتجاج نہ صرف بے فائدہ ہے ، بلکہ وہ خود خدا کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار ہے ۔ یہ خدا کی خدائی کی تصغیر ہے ۔ فریاد و احتجاج کرنے والا شخص بیک وقت دو نقصان کرتا ہے ۔ ایک یہ کہ وہ اپنی ناکامی کو دوبارہ کامیابی بنانے کے امکان کو استعمال کرنے سے محروم رہ جاتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ وہ خدا کی نظر میں اس بات کا مجرم مقرار پاتا ہے کہ اس نے ایک کامل دنیا کو ناقص دنیا بتانے کی جسارت کی ۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا اتھاہ امکانات کی دنیا ہے۔ ماضی کی کوئی کوتاہی مستقبل کے مواقع کو برباد نہیں کرتی۔ دشمن کی کوئی کارروائی ایک نئی برتر کارروائی کے امکان کو ختم نہیں کرتی۔ ہر نقصان کے بعد یہ موقع بدستور باقی رہتا ہے کہ آدمی از سر نو کوشش کرکے دوبارہ اپنے آپ کو کامیاب بنالے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پیچھے کی طرف دیکھنے کے بجائے آگے کی طرف دیکھے۔ وہ ہر کھونے کے بعد دوبارہ پانے کی کوشش کرے ۔ وہ ہاری ہوئی بازی کو محنت اور عمل کے ذریعہ از سر نو جیت لے۔ خاتونِ اسلام اسلامی شریعت میں عورت کا مقام ۔ اسلام اور جدید تہذیب کا تقابل از: مولانا وحید الدین خاں عورت کا درجہ اسلام میں وہی ہے جو مرد کا درجہ ہے۔ عزت اور احترام کے جو احکام ایک صنف کے لئے ہیں وہی احکام دوسری صنف کے لئے بھی ہیں۔ دنیا کے حقوق اور آخرت کے انعامات میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ البتہ اسلام کے نزدیک مرد مرد ہے اور عورت عورت۔ زندگی کا نظام چلانے میں دونوں برابر کے شریک ہیں تاہم فطری فرق کا لحاظ کرتے ہوئے اسلام نے دونوں کے درمیان تقسیم کار کا اصول رکھا ہے نہ کہ یکسانیت کار کا اصول۔ (پیپر بیک ۴۰ روپیہ، صفحات ۲۸۰) 8-1-85063-81 ISBN مکتبہ الرسالہ سی ۲۹، نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی۔ ۱۳ فون: 611128، 697333

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page