Al-Risala · April 1990 · page 10

فطری حقیقت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۱۰

فطری حقیقت

سی ایف ڈول (C. F. Dole) نے کہا ہے کہ ___ مہربانی کا برتاؤ دنیا میں سب سے بڑی عملی طاقت ہے :

Goodwill is the mightiest force in the universe.

یہ محض ایک شخص کا قول نہیں ، یہ ایک فطری حقیقت ہے ۔ انسان کے پیدا کرنے والے نے انسان کو جن خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا ہے ، ان میں سے اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ کسی آدمی کے ساتھ برا سلوک کیا جائے تو وہ پھر اٹھتا ہے ، اور اگر اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے تو وہ احسان مندی کے احساس کے تحت سلوک کرنے والے کے آگے جھک جاتا ہے ۔

اس عام فطری اصول میں کسی بھی شخص کا کوئی استثناء نہیں ۔ حتیٰ کہ دوست اور دشمن کا بھی نہیں ۔ آپ اپنے ایک دوست سے کڑوا بول بولئے ۔ اس کو بے عزت کیجئے ۔ اس کو تکلیف پہنچائیے ۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کے بعد فوراً وہ ساری دوستی کو بھول گیا ہے ۔ اس کے اندر اچانک انتقامی جذبہ جاگ اٹھے گا ۔ وہی شخص جو اس سے پہلے آپ کے اوپر پھول برسا رہا تھا ، اب وہ آپ کے اوپر کانٹا اور آگ برسانے کے لیے آمادہ ہو جائے گا ۔

اس کے برعکس ایک شخص جس کو آپ اپنا دشمن سمجھتے ہیں ، اس سے میٹھا بول بولئے ۔ اس کی کوئی ضرورت پوری کر دیجئے ۔ اس کی کسی مشکل کے وقت اس کے کام آ جائیے ۔ حتی کہ پیاس کے وقت اس کو ایک گلاس ٹھنڈا پانی پلا دیجئے ۔ اچانک آپ دیکھیں گے کہ اس کا پورا مزاج بدل گیا ہے ۔ جو شخص اس سے پہلے آپ کا کھلا دشمن دکھائی دے رہا تھا ، وہ آپ کا دوست اور خیر خواہ بن جائے گا ۔ خدا نے انسان کی فطرت میں یہ مزاج رکھ کر ہماری عظیم الشان مدد کی ہے ۔ اس فطرت نے ایک نہتے آدمی کو بھی سب سے بڑا تسخیر ی ہتھیار دے دیا ہے ۔ اس دنیا میں شیر اور بھیڑیے کو مارنے کے لیے گولی کی طاقت چاہیے ، مگر انسان کو زیر کرنے کے لیے کسی گولی کی ضرورت نہیں ۔ اس کے لیے حسن سلوک کی ایک پھوار کافی ہے ۔ کتنا آسان ہے انسان کو اپنے قابو میں لانا ۔ مگر نادان لوگ اس آسان ترین کام کو اپنے لیے مشکل ترین کام بنا لیتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page