اسلام کی اشاعت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۱۳
اسلام کی اشاعت
پیٹرک ریان (Patrick Ryan) نے لکھا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے بعد اسلام کی غیر معمولی اشاعت زیادہ تر تاجروں (ٹریڈرس)، اور صوفیوں کے ذریعہ ہوئی۔ اسلام کی اشاعت کا مقصد انھوں نے اس طرح حاصل کیا کہ وہ مشترک سماج میں خدا اور رسول کے تابع بن کر رہے ۔ حتیٰ کہ بعض اوقات ایسے ماحول میں بھی جو ان کے لیے غیر ہمدرد تھا۔ جو چیز بالآخر اس کا سبب ہوئی کہ ان کا ماحول بدل کر دارالاسلام بن جائے ، وہ مسلم اقلیت کی عسکریت نہ تھی بلکہ خود غیر مسلم اکثریت کی اسلام میں وہ دل چسپی تھی جس کو انھوں نے پرامن اور پرکشش مذہب کی حیثیت سے دریافت کیا :
This they achieved by learning to live lives of submission to God and to His messenger in a pluralistic, sometimes even unsympathetic environ- ment. What eventually contributed to that environment changing to a 'realm of Islam' (Dar al-Islam) was not the militancy of the Muslim mino- rity but the religious interest of the non-Muslim majority in what they ca- me to recognize as a peaceful and attractive form of faith. Patrick Ryan, Islam and Politics in West Africa: Minority and Majority Models, Quoted by The Muslim World, January 1987, p. 6. عام طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ بعد کی صدیوں میں اسلام کی عالمی اشاعت زیادہ تر تاجروں اور صوفیوں کے ذریعہ ہوئی ۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلم تاجروں یا مسلم صوفیوں نے باقاعدہ یا منظم صورت میں اسلام کی تبلیغ کی ۔ تاریخ سے اس قسم کی تبلیغی کوشش کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ تاجروں اور صوفیوں کے زمانہ میں اسلام کا پھیلنا بجائے خود ایک تاریخی واقعہ ہے ۔ مگر ان تاجروں اور صوفیوں کا باقاعدہ تبلیغی عمل کرنا کوئی ثابت شدہ تاریخی واقعہ نہیں ۔ ایسی حالت میں ان کے زمانہ میں اسلام کے پھیلنے کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب سادہ طور پر صرف یہ تھا کہ اس زمانہ میں وہ چیز ظہور میں نہیں آئی تھی جس کو موجودہ زمانہ میں احتجاجی سیاست کہا جاتا ہے ۔ احتجاجی سیاست، جس کو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے تقریباً تمام دنیا میں کسی نہ کسی طور پر اختیار کر رکھا ہے، یہی اسلام کی اشاعت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues