Al-Risala · April 1990 · page 14

اسلام کی اشاعت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۱۴

وجہ یہ ہے کہ یہ احتجاجی یا مخالفانہ سیاست داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور کھنچاؤ کا ماحول پیدا کرتی ہے ۔ اور نفرت اور کھنچاؤ کے ماحول میں کبھی اسلام کی اشاعت نہیں کی جاسکتی ۔ صدر اول میں جو انقلاب آیا اور جس طرح اسلام کی عظیم تاریخ بنی ، اس نے اب اسلام کو ایک طاقت ور سیلاب کی حیثیت دیدی ہے ۔ اب اسلام اپنے آپ پھیلنے کی طاقت رکھتا ہے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کی جھوٹی سیاست نے اسلام کے سیلاب کی راہ میں نفرت کا روک کھڑا کر دیا ہے ۔ اس روک کو دور کر دیجئے ۔ اس کے بعد اسلام اپنے آپ پھیلنے لگے گا ۔ قدیم زمانہ کے تاجروں اور صوفیوں نے یہی کیا تھا ۔ وہ خاموش اور سادہ انداز میں زندگی گزارتے تھے ۔ وہ مدعو قوموں سے کوئی نزاع نہیں کھڑی کرتے تھے ۔ ان کی بے نزاع زندگی نے اسلامی سیلاب کی راہ سے رکاوٹ کو دور کر رکھا تھا ۔ چنانچہ اسلام اپنے آپ پھیلتا جا رہا تھا ۔ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈر تاریخ کا وہ پہلا گروہ ہیں جنھوں نے اپنی جھوٹی سرگرمیوں سے اسلام کے اشاعتی سیلاب کے آگے نفرت کا بند کھڑا کر دیا ، اور اس طرح اسلام کے اشاعتی سیلاب کو روک دیا ۔ آج مسلم قوموں میں دوبارہ وہی روح پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کو پیٹرک ریان نے بجاطور پر ماضی میں اسلام کی اشاعت کا سبب قرار دیا ہے ۔ یعنی دوسری قوموں کے درمیان ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت کے انداز میں رہنا ۔

دوسری قوموں سے مسلمانوں کا ٹکراؤ کن چیزوں میں ہوتا ہے ۔ وہ زیادہ تر سیاسی ، اقتصادی اور سماجی نوعیت کے معاملات میں ہوتا ہے ۔ ان معاملات میں مسلمان اگر نزاع کا انداز اختیار کریں تو داعی اور مدعو کے درمیان کش مکش برپا ہوتی ہے ۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ دوسری قوموں میں اسلام کی اشاعت رک جاتی ہے ۔

اس کے برعکس اگر مسلمان اس قسم کے دنیوی امور میں صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو داعی اور مدعو کے تعلقات میں خوش گواری آتی ہے ۔ دوسری قومیں ہمدردانہ ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھتی ہیں ۔ ان میں سے بہت سے لوگ اسلام کی خوبیوں سے متاثر ہوتے ہیں اور آخر کار اسلام قبول کرلیتے ہیں ۔ دنیوی نقصانات پر صبر کرنے سے اسلام کی اشاعت کا دروازہ کھلتا ہے ، اور دنیوی نقصانات پر صبر نہ کرنا اسلام کی اشاعت کے دروازہ کو بند کر دیتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page