Al-Risala · April 1990 · page 16

سب سے بڑا فتنہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۱۶

ایک آیت

رزین نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک روز پانی مانگا ۔ ان کے پاس ایک پیالہ میں پانی لایا گیا جس میں شہد ملا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے کہا کہ یہ اچھا ہے۔ مگر مجھے قرآن کی آیت (الاحقاف (۲۰) یاد آتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت میں کچھ لوگوں سے کہا جائے گا کہ تم اچھی اپنی چیزیں دنیا میں لے چکے ۔ اب آخرت کی اچھی چیزوں میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ وہی نہ ہو۔ حضرت عمر نے یہ کہا اور پیالہ پئے بغیر واپس کر دیا۔ (التفسیر المظہرى)

مذکورہ آیت کے تحت اکثر تفسیروں میں اس طرح کے واقعات درج ہوتے ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ تاثر لے لیا گویا دنیا کی طیبات کو استعمال کرنا مطلق طور پر آخرت کی طیبات سے محرومی کے ہم معنی ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک خاص موقع پر شہد کا شربت نہ پینا محض شدت تاثر کی بنا پر تھا۔ وہ شرعی حکم کے طور پر نہ تھا بلکہ تقویٰ کے احساس کے تحت تھا۔ حدیث میں آیا ہے کہ کوئی بندہ اس وقت تک متقی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ بعض اوقات ایسی چیز کو بھی چھوڑ دے جس میں حرج نہیں ہے، اس اندیشہ کی بنا پر کہ شاید اس میں حرج ہو (لا يبلغ العبد ان يكون من المتقين حتى يدع ما لا بأس به حذرا لما به بأس)

حضرت عمر کے مذکورہ فعل کو اسی حدیث کے تحت دیکھنا چاہئے۔ یہ واقعہ ان کی بڑھی ہوئی متقیانہ حساسیت کی بنا پر پیش آیا نہ اس لیے کہ دنیا کی اچھی چیزیں اہل ایمان کے لیے قابل ترک ہیں۔ اگر دنیا کی اچھی چیزوں کو مطلقا قابل ترک سمجھا جائے تو یہ نظریہ قرآن کی ان آیتوں سے ٹکرا جائے گا جن میں طیب اور پاک چیزوں کو مطلق طور پر اہل ایمان کے لیے جائز بتایا گیا ہے۔ حتی کہ ارشاد ہوا ہے کہ کہو، اللہ کی زینت کو کس نے حرام ٹھہرایا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں اور کھانے کی طیب (پاک) چیزیں ۔ کہو کہ وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں اور آخرت میں تو وہ خاص انھیں کے لیے ہوں گی (الاعراف ۳۲)

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page