سب سے بڑا فتنہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۱۵
سب سے بڑا فتنہ
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ اس امت کے لیے میں سب سے زیادہ جس سے ڈرتا ہوں وہ منافق عالم ہے۔ لوگوں نے اس کی بابت مزید پوچھا تو حضرت عمر نے جواب دیا کہ عالم اللسان ، جاہل القلب ( حیاۃ الصحابہ ، الجزء الثالث ، صفحه ۲۶۶ )
ایک شخص اندھا ہے۔ اس کے پاس ہاتھ ہے جس سے وہ پکڑتے سے ، مگر اس کے پاس آنکھ نہیں جس سے وہ دیکھے ۔ ایسے آدمی کے ہاتھ میں ایک ہیرا دیدیا جائے تو کیا ہوگا۔ وہ ہیرے کو ٹٹول کر ہیرے کی سختی کو جان لے گا۔ مگر وہ ہیرے کی چمک کو نہ جان سکے گا۔ کیوں کہ ہیرے کی چمک اور اس کی خوبصورتی کو جاننے کے لیے آنکھ کی ضرورت ہے ، اور آنکھ اس کے پاس موجود ہی نہیں۔ یہی معاملہ کسی آدمی کا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کے پاس بصارت ہو مگر اس کے پاس بصیرت نہ ہو۔ اس کے پاس ذہنی علم ہو مگر اس کے پاس قلبی معرفت نہ ہو۔ یہی وہ انسان ہے جس کی بابت حضرت عمر نے فرمایا کہ وہ زبان کا عالم مگر قلب کا جاہل ہوگا۔
ایسا آدمی قرآن وحدیث کو پڑھے گا مگر وہ کہیں کی بات کہیں جوڑ دے گا۔ کیوں کہ اس کے پاس صرف الفاظ کا ذخیرہ ہے، وہ معانی کی گہرائیوں سے واقف نہیں۔ وہ اسلام کے نام پر تحریک چلائے گا مگر وہ بے لگام گھوڑے کی طرح کسی بھی سمت میں دوڑنا شروع کردے گا۔ کیوں کہ اس کو راستوں کی پہچان حاصل نہیں ۔
ایسا شخص بے اعترافی کا کمال دکھائے گا مگر وہ اعتراف کا ثبوت نہ دے سکے گا ، کیوں کہ وہ اعتراف کی لذت سے آشنا نہیں۔ وہ بے صبری کا مظاہرہ کرے گا مگر وہ صبر کی روش اختیار نہ کر سکے گا ، کیوں کہ وہ صبر کی اہمیت کو نہیں جانتا۔ وہ اپنی ذات سے تعلق رکھنے والے مسائل کو فوراً سمجھ لے گا مگر ملت سے تعلق رکھنے والے مسائل کو سمجھنے سے قاصر رہے گا ، کیوں کہ اس کے سینہ میں اپنی ذات کا درد تو ہے مگر اس کے سینہ میں ملت کا درد نہیں ۔ جو لوگ الفاظ کے عالم اور معانی کے جاہل ہوں وہ بلاشبہ سب سے بڑا فتنہ ہیں ، امت مسلمہ کے لیے بھی اور وسیع تر معنی میں ساری انسانیت کےلیے بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues