الٹی تفسیر
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۱۵
الٹی تفسیر
قرآن کی سورہ الفتح میں اس واقعہ پر تبصرہ ہے جس کو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ اس کی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے :
اللہ مومنوں دے راضی ہو گیا جب کہ وہ درخت کے نیچے اللہ سے بیعت کر رہے تھے ، اللہ کو معلوم تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا، پس اللہ نے ان پر اطمینان (سکینت) اتارا اور ان کو ایک قریبی فتح سے دی ۔ اور بہت سی غنیمت بھی جس کو وہ لیں گے ، اور اللہ زبردست ہے ، حکمت والا ہے۔ تم نے تم سے بہت سی غنیمت کا وعدہ کیا ہے جس کو تم لو گے تو یہ تم کو فوراً دے دیا۔ اور اس نے لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے، اور تاکہ یہ اہل ایمان کے لیے ایک نشانی ہو اور تاکہ اللہ تم کو صراط مستقیم دکھائے (الفتح ۱۸ - ۲۰)
اردو کے ایک مفسر قرآن نے ان آیات میں سکینت اور صراط مستقیم پر جو تفسیری نوٹ لکھا ہے وہ ان کے الفاظ میں حسب ذیل ہے :
" یہاں سکینت سے مراد دل کی وہ کیفیت ہے جس کی بنا پر ایک شخص کسی مقصد عظیم کے لیے ٹھنڈے دل سے پورے سکون و اطمینان کے ساتھ اپنے آپ کو خطرہ کے منہ میں جھونک دیتا ہے۔ اور کسی خوف یا گھبراہٹ کے بغیر فیصلہ کر لیتا ہے کہ یہ کام بہر حال کرنے کا ہے خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی تمہیں مزید بصیرت اور یقین حاصل ہو، اور آئندہ تم اسی طرح اللہ اور رسول کی اطاعت پر قائم رہو۔ اور اللہ کے اعتماد پر راہ حق میں پیش قدمی کرتے چلے جاؤ۔ اور یہ تجربات تمہیں یہ سبق سکھا دیں کہ خدا کا دین جس اقدام کا تقاضا کر رہا ہو، مومن کا کام یہ ہے کہ خدا کے بھروسہ پر وہ اقدام کر ڈالے، اس حیص بيص میں نہ لگ جائے کہ میری طاقت کتنی ہے اور اور باطل کی طاقتوں کا زور کتنا ہے "
اس موقع پر سکینت اور صراط مستقیم کی یہ تفسیر بالکل الٹی تفسیر ہے۔ یہاں سکینت سے مراد یہ ہے کہ دشمن کی اشتعال انگیز یوں کے باوجود ان کا سکونِ قلب برہم نہیں ہوا۔ انتہائی نازک حالات میں بھی وہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا نہیں ہوئے۔ یہاں سکینت کا مطلب " نتیجہ کی پروا کیے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues