Al-Risala · January 1990 · page 16

الٹی تفسیر

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۱۶

بغیر اپنے آپ کو خطرات میں جھونک دینا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس سے مراد اپنے آپ کو ضد سے اور اس منفی نفسیات سے بچانا ہے جب کہ آدمی یہ نادانی کرتا ہے کہ وہ نتیجہ کی پروا کیے بغیر اپنے آپ کو خطرہ کے منہ میں جھونک دیتا ہے۔ یہی معاملہ صراط مستقیم دکھانے کا بھی ہے۔ اس آیت میں صراط مستقیم سے مراد یہ نہیں ہے کہ آدمی، بس اقدام کر ڈالے، وہ اس حیص بیص میں نہ پڑے کہ میری طاقت کتنی ہے اور باطل کا زور کتنا؟ اس آیت کا مطلب اس کے بالکل برعکس ہے جو مذکورہ تفسیری نوٹ میں پر جوش الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ اس کا اصل مطلب اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ صلح حدیبیہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے واقعاتی طور پر مسلمانوں کو یہ راستہ دکھایا کہ کامیابی کا راز اکثر اوقات ٹکراؤ میں نہیں ہوتا، بلکہ ٹکراؤ سے اعراض میں ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آیت کا اگر وہ مفہوم لیا جائے جو مذکورہ تفسیر میں بتایا گیا ہے تو اس کو سب سے پہلی خلاف ورزی کرنے والے خود رسول اور اصحاب رسول قرار پائیں گے جن کے اوپر قرآن کی یہ آیت اتری۔ کیوں کہ "حدیبیہ" کے موقع پر انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ وہ مخالفین کی مخالفتوں کی پروا کیے بغیر ہمراہ کا اقدام کر ڈالیں، وہ ہر حال میں مکہ میں داخل ہو جائیں ، خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔

میوات کا سفر صفحات ۲۲۰ هدیه ۲۵ روپیه

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page