تحقیق ضروری ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۱۸
تحقیق ضروری ہے
عن عمرۃ بنت عبد الرحمن انها قالت عمرۃ بنت عبد الرحمن بتاتی ہیں کہ عائشہ کے سمعتُ عائشۃَ وذُكِرَ لها ان عبد اللہ سامنے ذکر کیا گیا کہ عبد اللہ بن عمرکہتے ہیں کہ مُردہ بن عمر يقولُ ان الميتَ لَيُعَذَّبُ کو زندہ کے رونے پر عذاب دیا جاتا ہے، ببكاء الحي عليه تقول : يَغْفِرُ اللہُ اس کے بعد میں نے حضرت عائشہ کو یہ کہتے ہوئے لابى عبد الرحمن اما انه لم يكن بـ سنا کہ اللہ ابو عبد الرحمن کو معاف کرے، وہ جھوٹ ولكنه نسى او اخطأ انما مر رسول اللہ نہیں بولے۔ مگر وہ بھول گئے یا ان سے غلطی ہوئی۔ صلى الله عليه وسلم على يهوديَّةٍ يُبكى اصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عليها فقال : انهم ليَبكون عليها یہودی عورت پر گزرے جس کے مرنے پر لوگ وانها لتُعذَّبُ في قبرها - رو رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر (متفق عليه) رو رہے ہیں، حالاں کہ اس کی قبر میں اس کو عذاب دیا جا رہا ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ایک جلیل القدر صحابی تھے ۔ ان کے تقوی اور اخلاص اور حسن نیت میں کوئی شبہ نہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے ایک ایسی بات کہی جو اصل واقعہ کے مطابق نہ تھی۔ پھر جب ایک ایسا شخص کسی معاملہ کی صحیح نوعیت کو سمجھنے میں غلطی کر سکتا ہے جو مسلمہ طور پر مخلص اور متقی ہو تو عام انسانوں کا کیا شمار۔
اس طرح کی مثالیں بتاتی ہیں کہ کسی معاملہ میں رائے دینے کے لیے آدمی کو انتہائی حد تک محتاط ہونا چاہیے ۔ اگر وہ رائے دینا ضروری سمجھتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تمام ضروری تقاضوں کو پورا کرے ۔ وہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھ کر ہر پہلو سے اس کی پوری تحقیق کرے ۔ اور اگر معاملہ نازک ہو تو اس کے بارہ میں دعا اور استخارہ بھی کرے ۔ ان ضروری مرحلوں سے گزرے بغیر جو شخص معاملات میں رائے زنی کرے ، اس کے متعلق شدید اندیشہ ہے کہ وہ غلطی کر جائے ۔ اس کا مخلص اور متقی ہونا غلطی نہ کرنے کی کوئی یقینی ضمانت نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues