رمضان کا مہینہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۱۹
رمضان کا مہینہ
بخاری اور مسلم نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو باندھ دیا جاتا ہے۔ یہی بات ترمذی اور ابن ماجہ میں اس طرح آئی ہے کہ جب رمضان کے مہینہ کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور آگ کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے، پس اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا۔ اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے، پس اس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا۔ اور پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے خیر کو چاہنے والے آگے آ ، اور اے شر کو چاہنے والے رک جا۔ اور اللہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے۔ اور ایسا ہی ہر رات کو ہوتا ہے۔
شیطان کا باندھا جانا فرد کی نسبت سے ہے نہ کہ عمومی طور پر تمام لوگوں کی نسبت سے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا بھر کے تمام شیطان ایک مہینہ کے لئے مکمل طور پر باندھ دئے جاتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے مہینہ میں شیاطین اس فرد کی نسبت سے بندھ جاتے ہیں جو صحیح معنوں میں روزہ دار ہو۔ جو تمام آداب و شرائط کے ساتھ روزہ کا اہتمام کرے ۔ رمضان کے مہینہ میں ایسے روزہ دار شخص کے اوپر شیطان غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔
اس حدیث میں بظاہر" صوم" کی بات کہی گئی ہے ، مگر در اصل وہ "صائم" کی بات ہے۔ اس میں اس انسان کا ذکر ہے جو روزہ سے یہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ جو ، حدیث ۔ کے الفاظ میں ، روزہ کو اپنے لئے ڈھال بنالے۔
جب رمضان کا مہینہ آتا ہے اور ایک بندہ مؤمن اللہ کی خاطر اس کے روزے رکھتا ہے تو اس کو تقویٰ کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس عمل کے دوران اس کے اندر اعلیٰ قسم کی رحانی کیفیات ابھرتی ہیں جو آدمی کو ان فائدوں کا مستحق بنا دیتی ہیں جس کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اے ایمان والو ، تمہارے اوپر رمضان کا روزہ فرض کیا گیا جس طرح پچھلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو (البقرہ ۱۸۳)
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues