Al-Risala · April 1990 · page 30

عنقریب اسلام کی فصل بہار آنے کو ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۳۰

ان حادثات (صحیح تر لفظ میں) مسلمانوں کی غفلت سے پیش آنے والے واقعات) نے مولانا ظفر علی خاں کو تڑپا دیا۔ وہ اپنی تڑپ کو نظم و نثر میں انڈیلتے رہے۔ یہاں تک کہ ۲۷ نومبر ۱۹۵۶ کو اس دنیا سے چلے گئے۔

مولانا ظفر علی خاں یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کی یہ منفی چیخ پکار مثبت نتیجہ پیدا کرے گی۔ انھوں نے پر جوش طور پر کہا تھا :

عنقریب اسلام کی فصل بہار آنے کو ہے

مگر یہ سراسر خوش خیالی تھی جو کبھی پوری نہیں ہوئی۔ یہ ایک مولانا ظفر علی خاں کی بات نہیں ۔ یہی موجودہ زمانہ کے تمام رہنماؤں کا حال ہے ۔ وہ اپنی منفی کاشت سے مثبت فصل کی امید کرتے رہے ۔ وہ دوسروں کی تخریب میں اپنی تعمیر کا خواب دیکھتے رہے ۔ یہ سلسلہ آج بھی اسی جوش کے ساتھ جاری ہے ۔ مگر یہ یقینی ہے کہ اس قسم کی کوششوں سے نہ ماضی کے لیڈر کوئی نتیجہ برآمد کر سکتے تھے اور نہ حال کے لیڈر کوئی نتیجہ برآمد کر سکیں گے ۔ اس قسم کی تمام سرگرمیاں ضیاع وقت کے خانہ میں جانے والی ہیں نہ کہ تعمیر قوم کے خانہ میں ۔ دین کامل از مولانا وحید الدین خاں قرآن میں اسلام کو دین کامل کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دین مستحکم ہے۔ اسلام کا ظہور، دین خداوندی کی تاریخ میں ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے۔ اسلام نے خدا کے دین کے ساتھ انسانی تعدی کے دور کو ختم کر دیا اور دین کو تمام پہلوؤں سے کامل کر کے اس کو ایسا مستحکم بنا دیا کہ قیامت تک اس کی برتری باقی رہے وہ اپنے پیروؤں کے لیے ابدی سرفرازی کی ضمانت بن جائے۔ صفحات ۳۷۰ ، ہدیہ ۲۵ روپید

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page