Al-Risala · April 1990 · page 31

اصول، مفاد

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۳۱

اصول، مفاد

موجودہ بائبل اگرچہ محرف ہوچکی ہے، تاہم اس میں بہت سے اجزاء ایسے ہیں جو نہایت عبرت ناک ہیں۔ بائبل اپنی موجودہ شکل میں سابق اہل کتاب (یہود) کی تاریخ بھی ہے اور ان کے نبیوں کے فرمودات کا مجموعہ بھی ۔ اس میں بار بار بتایا گیا ہے کہ اگر تم خدا کی شریعت پر چلو اور خدا کے حکموں کو مانو تو تمہیں ہر قسم کی کامیابی حاصل ہوگی۔ اور اگر تم خدا کے حکموں کو نہ مانو اور اس کے خلاف چلنے لگو تو خدا تم کو حقیر کرکے ستم کو تمہارے دشمنوں کے حوالے کر دے گا (مثال کے طور پر، احبار، باب ۲۶)

بعد کے زمانہ میں جب یہود کے اندر بگاڑ آیا تو خدا نے اپنے نبیوں کے ذریعہ مسلسل انہیں انتباہ دیا۔ اس کی تفصیلات بائبل کے کئی ابواب میں پھیلی ہوئی ہیں (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، یرمیاہ کی کتاب)، اس سلسلہ میں چیتاونی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد وہ مردود چاندی کہلائیں گے۔ کیوں کہ خداوند نے ان کو رد کر دیا ہے (یرمیاہ، ۶: ۳۰) :

Reprobate silver shall men call them, because the Lord hath rejected them. یہود کے بارے میں یہ بات بحیثیت نسل نہیں کہی گئی ہے بلکہ بحیثیت اہل کتاب کہی گئی ہے۔ یہ ان قوموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا قانون ہے جن کو الہامی کتاب بھیجی جائے، جن کے درمیان پیغمبر خدا کی ہدایت لے کر آئیں۔ ایسی قوم جب خدا کی بتائی ہوئی روش سے ہٹ جائے تو خدا بھی اسے رد کر دیتا ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان ایسے ہو جاتے ہیں جیسے مردود چاندی یا ایسا سکہ جس کو بینک نے رد کر دیا ہو۔

اس سلسلہ میں بائبل میں (نیز قرآن وحدیث میں جو بیانات ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے، خدا کی پسند پر جینا، اور دوسرا ہے، اپنی پسند پر جینا۔ دوسرے لفظوں میں اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک ہے، اصول حق کے لیے جینا، اور دوسرا ہے، ذاتی مفاد کے لیے جینا۔

اپریل ۱۹۹۰ء | الرسائل 31

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page