اسلامی نکاح
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۳۷
ہو ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام میں نکاح اور شادی کا معاملہ کتنا زیادہ سادہ اور سہل ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلم شادیوں میں ایسے برے رواج شامل ہوگئے ہیں جنہوں نے ایک جائز فعل کو نا جائزفعل میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایک یہ کہ شادی کو خاندانی وقار کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں نکاح کی سادہ اسلامی تقریب مصنوعی دھوم اور بے جا نمائش کی تقریب بن گئی ہے۔ اس دھوم اور نمائش کو قائم رکھنے کے لیے لوگ مالی اعتبار سے لُٹ جاتے ہیں۔ جائدادیں بیچ دیتے ہیں ۔ اور سودی قرض کی لعنت میں پھنس جاتے ہیں ۔ ایک دن کی ظاہری دھوم کی خاطر وہ اپنی پوری زندگی کو بے دھوم بنا لیتے ہیں ۔
یہ تمام چیزیں سراسر غیر اسلامی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نکاح کی تقریب کو انتہائی حد تک سادہ اور بے خرچ ہونا چاہیے ۔ وہ ایسا ہی ہونا چاہیے جیسے نماز کا وقت آیا اور آدمی نے مسجد میں جاکر نماز پڑھ لیا ۔ نکاح اور شادی کو ایک سنجیدہ فریضہ کی ادائیگی کا دن ہونا چاہیے ، نہ کہ شخصی حیثیت یا خاندانی عزّت کے اظہار کا دن۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ان اعظم النکاح بركة ايسره مؤنة بے شک سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے مشکوۃ المصابیح ، الجز والثانی ، صفحہ ۹۳) جو سب سے زیادہ ہلکا اور کم خرچ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخصوص مصالح کی بنا پر کئی نکاح کی اجازت تھی۔ چنانچہ آپ نے مختلف اوقات میں گیارہ خواتین سے نکاح کیا۔ نو خواتین بوقت وفات آپ کے یہاں موجود تھیں ۔ ان میں سے کسی بھی نکاح کے موقع پر کسی بھی قسم کی کوئی نمائشی تقریب نہیں کی گئی ۔ مثلاً آپ کی ایک اہلیہ سودہ بنت زمعہ تھیں ۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد کہ میں ان کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ سودہ ایک بیوہ خاتون تھیں۔ آپ کی طرف سے خولہ بنت حکیم نکاح کا پیغام لے کر گئیں ۔ انھوں نے پہلے سودہ سے اس کا ذکر کیا۔ سودہ نے کہا کہ اگر میرا باپ راضی ہو تو مجھے کوئی عذر نہیں ۔ چنانچہ خولہ نے سودہ کے باپ سے گفتگو کی ۔ انھوں نے اس رشتہ سے اتفاق کیا ۔ اس کے بعد آپ سودہ بنت زمعہ کے مکان پر گئے اور وہاں سادہ طور پر نکاح پڑھا دیا گیا۔ اصحاب رسول کا طریقہ بھی ہمیشہ یہی رہا۔ حتیٰ کہ صحابہ میں جو لوگ صاحبِ مال تھے، ، انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues