Al-Risala · April 1990 · page 38

تلک کی رسم

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۳۸

بھی ہمیشہ سادہ اور بے خرچ انداز میں نکاح کیا۔ مثال کے طور پر حضرت عبدالرحمن بن عوف ایک تاجر تھے۔ وہ ان چند صحابہ میں کہتے جو مالدار شمار کیے جاتے تھے۔ انھوں نے مدینہ میں ایک خاتون سے نکاح کیا۔

امام احمد نے حضرت انس کے واسطہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی مواخات مدینہ میں ایک ایسے مسلمان کے ساتھ کی گئی جو بہت مالدار تھے ۔ انھوں نے اپنے نصف مال کی پیش کش کی۔ مگر عبدالرحمن بن عوف نے ان کے مال میں سے کچھ نہیں لیا۔ انھوں نے مدینہ میں تجارت شروع کردی۔ یہاں تک کہ وہ خود ایک مال دار شخص ہو گئے ۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آئے تو ان کے کپڑے پر خوشبو کا اثر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمانی زبان میں فرمایا مَهْيَم۔ یعنی کیا بات ہے۔ انھوں نے کہا: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً اے خدا کے رسول، میں نے ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے) ، الجزد الاول ، ۳۸۰ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اگر چہ مدینہ میں تھے مگر انھوں نے اپنے نکاح میں دھوم والی کوئی تقریب نہیں کی۔ حتی کہ رسول اللہ کو اور آپ کے قریبی اصحاب کو بھی شادی کی تقریب میں مدعو نہیں کیا۔ سادہ طور پر محض ایجاب و قبول کے ذریعہ نکاح کر لیا۔ اور مقررہ مہر ادا کر کے ازدواجی زندگی گزارنے لگے۔

تلک کی رسم

مسلمانوں میں آج کل جہیز کی جو رسم ہے ، وہ عین اسی ہندوانہ رسم کی نقل ہے جو برادران وطن کے درمیان تلک (dowry) کے نام سے رائج ہے۔ ہندوؤں میں یہ رسم غالباً زرعی دور میں اس طرح پڑی کہ ان کے مذہبی قانون کے مطابق، جائداد میں لڑکیوں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ اس کی جزئی تلافی کے لیے شادی کے موقع پر کچھ نقد یا سامان لڑکی کو دینے کا رواج شروع ہوا۔ غیر قوموں کی جن چیزوں کو مسلمانوں نے باقاعدہ اپنا لیا ہے، ان پر تو وہ دین کی طرح عمل کرتے ہیں۔ لیکن غیر قومیں اگر خود کسی چیز کو ان کے درمیان رائج کرنا چاہیں تو فوراً ان کے تمام اصاغر و اکابر پکار اٹھتے ہیں کہ ان کی ملی شناخت کو مٹانے کی سازش کی جارہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page