Al-Risala · April 1990 · page 47

ایثار اور قربانی کی تجدید

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۴۷

مادی وسائل کا ایک حصہ اپنے بھائی کو دے دیتے ہیں تو یہ بھی ایک قربانی ہے۔ اس طرح قربانیوں کا یہ سلسلہ پوری زندگی میں اور ہر وقت جاری رہتا ہے ۔ اس قربانی کے بغیر بہتر سماجی زندگی کی تعمیر ممکن نہیں ۔

زندگی میں کوئی بڑا کام کبھی قربانی کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ۔ ہر بڑا کام لازمی طور پر فنائیت مانگتا ہے ۔ قوم کو اوپر اٹھانے کے لیے اپنے آپ کو پیچھے کر لینا ، ملک کی ترقی کے لیے ذاتی نقصان کو گوارا کر لینا ، انسانیت کو اونچا کرنے کے لیے اپنے جھنڈے کو نیچا کر لینا ، اجتماعی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی خواہشات کو دبانا ، اصول کو قائم کرنے کی خاطر اپنی انا کو کچل دینا ، پڑوسی کو امن دینے کی خاطر اپنے آپ پر پابندی لگانا ، اس طرح کی تمام چیزیں قربانی کی حیثیت رکھتی ہیں اور یہی وہ قربانی ہے جس کی اہمیت کو بتانے کےلیے عید اضحی کا تیوہار منایا جاتا ہے ۔ حقیقت حج از: مولانا وحید الدین خاں حج کا سفر خدا کی طرف سفر ہے ۔ حج حق تعالیٰ سے ملاقات ہے ۔ دوسری عبادتیں اللہ تعالیٰ کی یاد ہیں ۔ جب کہ حج خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے ۔ عام عبادت اگر غیب کی سطح پر خدا کی عبادت ہے تو حج شہود کی سطح پر خدا کی عبادت کرنا ہے ۔

( صفحات ۱۱۳ قیمت ۳۰ روپیہ ، مختصر : صفحات ۴۸ قیمت ۵ روپیہ )

نوٹ : یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۱۴ جولائی ۱۹۸۹ء کو نشر کی گئی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page