ایثار اور قربانی کی تجدید
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۴۶
ہر ایک کو اپنے سرسبز و شاداب عراق کو چھوڑ کر ”صحرائے عرب“ میں جا کر آباد ہو جانا ہے ۔
ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آج کے حالات میں یہ ابراہیمی واقعہ کس پہلو سے مطلوب ہے و خدا ہم سے کس قربانی کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ آج کے حالات میں بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے افراد سے جو قربانی مطلوب ہے وہ اپنی شکل کے اعتبار سے خواہ جو بھی ہو، مگر اپنی روح کے اعتبار سے وہ ابراہیمی قربانی قرار پائے گی ۔ اور اس میں فنائیت کا ثبوت دینے والے کو وہی کریڈٹ ملے گا جس کو قربانی کہا جاتا ہے ۔ اب اس لحاظ سے سوچئے کہ آج کے حالات میں سنت ابراہیمی کو ادا کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہے ۔ وہ کون سی قربانی ہے جو آج کے حالات میں ہم سے مطلوب ہے ۔ ابراہیم ؑ اور اسماعیل علیہما السلام نے ایک بہت مخصوص اور منفرد قسم کی قربانی پیش کی تھی ۔ یہ ایک انتہائی انداز کی قربانی تھی جیسی قربانی دوبارہ کوئی شخص پوری انسانی تاریخ میں پیش نہ کرسکا۔ اس طرح یہ تمام انسانوں کے لیے ایک ممتاز اور معیاری نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اسی طرح آئندہ تمام لوگوں کو اپنے اپنے دائرہ میں اور اپنے اپنے امکان کے بقدر قربانی پیش کرنا ہے ۔ عید اضحیٰ کا دن ہر شخص کو اسی ذمہ داری کا سبق دیتا ہے ۔
اس ایثار و قربانی کا دائرہ بے حد وسیع ہے ۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی بھی ہوسکتی ہے اور بڑی سے بڑی بھی ۔ بس میں سفر کرتے ہوئے جب آپ ایک خاتون یا ایک بوڑھے مسافر کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنی سیٹ دوسرے انسان کے حوالے کر دیتے ہیں تو یہ بھی ایک قربانی ہے ۔ آپ ایک ادارہ میں عہدیدار ہیں۔ آپ کے سامنے ایک زیادہ بہتر شخص آتا ہے ۔ آپ عہدہ کی کرسی اس کی خاطر چھوڑ دیتے ہیں تو یہ بھی ایک قربانی ہے ۔ آپ کے اندر ایک شخص کے خلاف غصہ اور نفرت کی آگ بھڑکتی ہے ۔ آپ اپنے غصہ اور نفرت کی آگ کو صبر و برداشت کے پانی سے بجھا دیتے ہیں تو یہ بھی ایک قربانی ہے ۔ آپ کے پاس مادی وسائل زیادہ ہیں اور آپ کے ایک بھائی کے پاس کم ۔ آپ اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues