بیس سال بعد
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۲
بیس سال بعد
" کولمبس نے امریکہ کو دریافت کیا "۔ چھ لفظ کے اس جملہ کو آج ایک شخص چھے سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اپنی زبان سے ادا کر سکتا ہے ۔ مگر اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے کولمبس کو ۲۰ پر مشقت سال صرف کرنے پڑے ۔
کرسٹوفر کولمبس (Christopher Columbus) ۱۴۵۱ میں اٹلی میں پیدا ہوا۔ ۱۵۰۶ میں اسپین میں اس کی وفات ہوئی ۔ امریکہ کی دریافت حقیقتاً یورپ کے لیے مشرق کا سمندری راستہ دریافت کرنے کی کوشش کا ایک ضمنی حاصل (by-product) تھی۔ کولمبس نے ۱۴۸۴ میں پرتگال کے شاہ جان دوم (John II) سے درخواست کی کہ وہ اس بحری سفر کے لیے اس کی مدد کرے۔ مگر شاہ پرتگال نے اس کو بے فائدہ سمجھ کر مدد کرنے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد کولمبس نے کیسٹیل (Castile) کی ملکہ ازبیلا (Isabella) سے مدد کی درخواست کی یہاں بھی اس کو مثبت جواب نہیں ملا۔ تاہم کو لمبس نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ آٹھ سال کے بعد ملکہ نے اس کو کشتیاں اور ضروری سامان مہیا کر دیا۔ کولمبس نے تین کشتیوں کے ساتھ اپنا پہلا سفر ۳ اگست ۱۴۹۲ کو شروع کیا۔ تاہم اس سفر میں وہ امریکہ کے ساحل تک پہونچنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ہر قسم کی مشکلات اور آزمائشوں کے باوجود کولمبس اپنی کوشش میں لگا رہا۔
آخر کار چوتھے سفر کے بعد ۱۵۰۴ میں وہ " نئی دنیا " کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گیا (10/691) کولمبس سے پہلے دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی ۔ کولمبس کی دریافت نے نئی اور پرانی) دونوں دنیاؤں کو ملا کر ایک کر دیا۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم دریافت تھی ۔ مگر یہ دریافت صرف اس وقت ممکن ہوسکی جب کہ کولمبس اور اس کے ساتھی بے حوصلہ ہوئے بغیر ۲۰ سال تک اس جان جو کھم منصوبے کی تکمیل میں لگے رہے ۔
یہی اس دنیا میں کامیابی کا طریقہ ہے ۔ اس دنیا میں ہر کامیابی " ۲۰ سالہ " محنت مانگتی ہے ۔ اس کے بغیر یہاں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی ۔
"