Al-Risala · May 1990 · page 3

ایک سنت

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۳

ایک سنت

تبلیغی جماعت کے افراد جب گشت پر نکلتے ہیں تو ان میں بولنے والا صرف ایک ہوتا ہے جس کو متکلم کہتے ہیں۔ بقیہ لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ چپ رہیں اور صرف متکلم کو بولنے کا موقع دیں۔ بقیہ لوگوں کے چپ رہنے کا مطلب سادہ طور پر صرف چپ رہنا نہیں ہے۔ تبلیغ کا نظام انھیں بھی ایک اہم کام بتاتا ہے۔ وہ کام یہ کہ وہ متکلم اور سامع کے حق میں دل ہی دل میں دعا کرتے رہیں۔ وہ اللہ سے رجوع ہو کر خاموش زبان میں کہیں کہ اے اللہ، تو متکلم کو توفیق دے کہ وہ صحیح بات اپنی زبان سے نکالے، اور سامع کو توفیق دے کہ وہ صحیح بات کو سن کر اسے قبول کرلے۔ یہ بظاہر معمولی سی بات ہے، مگر وہ بے حد اہم بات ہے۔ یہ ایک سنت کو زندہ کرنے کے ہم معنی ہے جو موجودہ زمانہ میں تقریباً ختم ہوگئی تھی۔ موجودہ زمانہ میں پریس اور پلیٹ فارم کی ایجاد نے لوگوں نے اندر یہ ذہن پیدا کر د کہ اصل کام لکھنا اور بولنا ہے۔ اب ہر آدمی کچھ نہ کچھ لکھ کر چھاپنے لگا، اور ہر آدمی نے لاؤڈ اسپیکر لگا کر بولنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ لکھنے اور بولنے کا یہ ذوق اتنا بڑھا کہ اس کے ہنگامہ میں اصل بات، ہی گم ہو کر رہ گئی۔ بولنا سب کچھ بن گیا اور نہ بولنا کچھ بھی نہ رہا۔ اسلام نے جو طریقہ بتایا یا اور صحابہ کرام نے جس پر کامل طور پر عمل کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف بولنا ہی کام نہیں ہے بلکہ چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ جس آدمی کے لئے بولنے کا موقع نہ ہو اس کے لئے بھی ایک عظیم مشغولیت ہے۔ یہ کہ وہ دوسرے دینی خادموں کے حق میں نیک دعا کرے ۔ اور عام انسانوں کے لئے یہ دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صراطِ مستقیم کی توفیق عطا فرمائیں۔ یہ سنت اگر مسلمانوں میں پوری طرح زندہ ہو جائے تو بیشتر جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔ مزید یہ کہ ملت کے اندر اب جو کام جاری ہے، وہ کام زیادہ موثر اور کارگر بن جائے کیونکہ اس کے بعد انسانی کوشش کے ساتھ خدا کی نصرت بھی اس میں شامل ہو جائے گی۔

اگر آپ بولنا جانتے ہیں تو بولئے ۔ لیکن اگر آپ بولنا نہ جانتے ہوں تب بھی آپ کے لئے ایک بہت بڑا کام ہے ـــ آپ بولنے والوں کے حق میں اور سننے والوں کے حق میں دعا کیجئے ۔ یہ دوسرا عمل پہلے عمل سے کسی بھی درجہ میں کم نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page