Al-Risala · May 1990 · page 5

تعمیری لاوا

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۵

تعمیری لاوا

زمین کے اوپر جس طرح ندیاں بہتی ہیں، اسی طرح زمین کے اندر لاوا (Lava) بہتا ہے۔ لاوا پگھلی ہوئی چٹانیں ہیں ۔ ان کا درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری یا اس سے کچھ کم یا زیادہ ہوتا ہے۔ یہ لاوا اپنی نالیوں (Lava tubes) کے راستے سے بہتا ہوا کبھی کبھی زمین کے اوپر آجاتا ہے۔ اس وقت ہم کہتے ہیں کہ فلاں مقام پر جوالا مکھی پھٹ پڑا۔

انسانی آبادیوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ مثلاً ۹۰-۱۹۸۹ میں کشمیر میں گولی اور بم کا ایک طوفان جاری ہو گیا ۔ یہ بھی ایک انسانی لاوا تھا۔ کشمیر کے لوگ ۱۹۴۷ کے بعد سے احساس محرومی کا شکار ہو رہے تھے۔ اس کے نتیجہ میں ان کے اندر شکایتوں کا لاوا پک رہا تھا جو آخر کار پھٹ پڑا۔ یہ تخریبی لاوا کی مثال تھی۔ اسی طرح ایک اور لاوا ہے جس کو '' تعمیری لاوا'' کہہ سکتے ہیں ۔ پہلا لاوا تخریب کی نفسیات سے ابھرتا ہے اور دوسرا لاوا تعمیر کی نفسیات سے۔ ایک قوم کے اندر تعمیر ذہن کی تحریک چلائی جائے ۔ اس کے اندر ایمان کا جذبہ بیدار کیا جائے ۔ اس کے افراد میں اخلاق و کردار پیدا کیا جائے۔ اس کو ایک ایسی قوم بنایا جائے جس کے افراد باشعور افراد ہوں ۔ یہ کام اگر چہ بظاہر ایک خاموش اور دیر طلب کام ہے ، مگر وہ لاوا بننے کے عمل سے کم نہیں ۔ جب وہ اپنی آخری حد پر پہونچتا ہے تو وہ تعمیری لاوا بن کر پھوٹ پڑتا ہے ۔ وہ پورے ماحول میں نیا انقلاب بر پا کر دیتا ہے ۔

تخریبی لاوا اور تعمیری لاوا دونوں کے نمونے دنیا میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ تخریبی لاوا کی ایک مثال بم ہے اور تعمیری لاوا کی ایک مثال درخت ۔

بم پھٹتا ہے تو کیا ہوتا ہے ۔ وہ اپنے چاروں طرف تکلیف دہ شور بکھیرتا ہے ۔ وہ اپنے آس پاس کی دنیا میں ہر چیز کو برباد کر دیتا ہے ۔ بم کا پھٹنا تخریبی لاوا کا پھٹنا ہے ۔ جتنا بڑا بم اتنی ہی زیادہ بربادی اور تخریب کاری ۔

اس کے بعد درخت کی مثال دیکھئے ۔ درخت کا لاوا اس کے بیج کے اندر ہوتا ہے۔ درخت کا ایک بیج جب زمین میں ڈالا جاتا ہے تو وہ بھی پھٹتا ہے ۔ مگر بیج کے پھٹنے سے کوئی شور برپا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page