تعمیری لاوا
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۶
نہیں ہوتا۔ بیج کا پھٹنا مکمل طور پر ایک خاموش انفجار ہوتا ہے۔
پھر یہ کہ بیج جب پھٹتا ہے تو وہ اپنے اندر سے بربادی نہیں نکالتا بلکہ آبادی نکالتا ہے۔ بیج کا پھٹنا ایک سرسبز و شاداب درخت کا ظہور میں آنا ہے جس کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ جس کے نیچے لوگوں کو سایہ ملے۔ جس سے پھول کی خوشبو اور پھل کی خوراک حاصل ہو۔ عام انسانی تحریکیں تخریبی انفجار کے ہم معنی ہیں۔ یہ تحریکیں جب پھٹتی ہیں تو لوگوں کو گولی اور بم کا شور سننا پڑتا ہے۔ وہ اپنے ساتھ تباہی اور بربادی کے واقعات لے آتی ہیں۔ پوری انسانی آبادی ان کے نتائج کو دیکھ کر چیخ اٹھتی ہے۔
مگر ایک سچی اسلامی تحریک کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ سچی اسلامی تحریک درخت کے بیج کی مانند ہے۔ اس کا انفجار خاموش انفجار ہوتا ہے۔ سچی اسلامی تحریک سے جو افراد تیار ہوتے ہیں، ان میں کا ہر شخص خدا کا شاداب درخت ہوتا ہے۔ اس قسم کے انسانی گروہ کا پھٹنا خدا کی زمین میں ایک لہلہاتا ہوا باغ وجود میں لانا ہے۔
ایسے لوگ انسانوں کے لیے سراپا رحمت بن کر ابھرتے ہیں۔ وہ سہتے ہیں تاکہ دوسروں کو نہ سہنا پڑے۔ وہ جاگتے ہیں تاکہ دوسرے لوگ سوئیں۔ وہ اپنے آپ کو محروم کرتے ہیں تاکہ دوسرے لوگ پائیں۔ وہ جھک جاتے ہیں تاکہ دوسروں کو کھڑا ہونے کا موقع ملے۔ وہ کم پر راضی ہو جاتے ہیں تاکہ دوسروں کو زیادہ ملے۔ وہ موت کو قبول کرتے ہیں تاکہ دوسروں کو زندگی حاصل ہو۔ وہ اپنے سینہ کو غم کا قبرستان بناتے ہیں تاکہ دوسروں کے گھروں میں خوشیوں کی بہار آسکے۔ تاریخ میں تخریبی لاوا پھٹنے کی بے شمار مثالیں ہیں، ماضی میں بھی اور حال میں بھی۔ مگر تعمیری لاوا پھٹنے کی کامل مثال معلوم تاریخ میں صرف ایک ہے، اور وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی مثال ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں صحابہ کرام کا اٹھنا اسی قسم کے ایک تعمیری لاوے کا پھٹنا تھا جس کو قرآن میں خیر امت کا اخراج (آل عمران (۱۱۰) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انسانوں کے درمیان جب تخریبی لاوا پھٹتا ہے تو وہ ہر طرف تخریب بکھیرتا ہے۔ مگر تعمیری لاوا جب پھٹتا ہے تو وہ ہر طرف تعمیر کا چمن اگا دیتا ہے۔ صحابہ کرام کی صورت میں تعمیر کا جو لاوا پھٹا اس نے ساری دنیا کو اسی قسم کے تعمیری نتائج سے بھر دیا۔